انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 22

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کرنے کے باوجود وہ ان سے تعلق رکھ سکتی تھیں اس لئے رومن تحریک مستقل ارتقائی منازل طے کرتی چلی گئی اور ارتقائی فلسفہ کی بانی ہوئی۔ایرانی تہدیب نے وسیع امپائر کی بنیاد رکھی جس کے ٹکڑے اپنے اپنے دائرے کے اندر آزاد تھے اور پھر ایک سردار کے ماتحت تھے۔تمام ایرانی حکومتوں میں یہ بات پائی جاتی۔ہے۔یہ حکومت در حکومت کا احساس ان کے اندرا ہرمن اور یزدان کے خیال سے پیدا ہوا۔بابلی تحریک کیمسٹری اور ہیئت پر مبنی تھی اور اس وجہ سے تعمیر اور تنظیم میں اسے خاص شغف تھا اور گو یہ تحریک سب سے پرانی ہے اور اس کے آثار کم ملتے ہیں لیکن جتنے آثار بھی اس کے ملتے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔بابلی تحریک کے آثار قرآن کریم میں قرآن کریم میں بھی اس تحریک کی بعض شاخوں کا ذکر ہے۔چنانچہ سورہ فجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - ادَمَ ذَاتِ الْحِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقَ مِثْلُهَا في البلاد - وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّحْرَ بالوَادٍ - وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ - الَّذِينَ طَغَوْا فِي البِلادِ - فَا كَذَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ - ال اس تہذیب کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی تھی انہیں عاد کہتے ہیں۔عاد نام کی دو قو میں گذری ہیں۔عاد اول تہذیب بابلی کے بانی تھے اور دوسرے عاد بعد کے زمانہ میں اس تہذیب کے حاملوں میں سے ایک حامل تھے۔اس آیت میں انہی پہلے عاد یعنی بانیانِ تہذیب بابلی کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عاد سے کیا سلوک کیا ؟ وہ عاد جو عاد ارم کہلاتے ہیں اور بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے والے تھے۔اتنی بڑی اونچی عمارتیں بناتے تھے کہ الَّتِي لَمْ يُخْلَقُ مِثْلُهَا في البلاد ان کے بعد کی کوئی قوم بھی اس فن میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکی۔یعنی گو عام طور پر دنیا ترقی کرتی ہے لیکن با وجود ترقی کے زمانہ قرآن کریم تک کوئی قوم فن عمارت میں عاد کے کمال تک نہیں پہنچ سکی۔وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالوَاد پھر اسی عاد کی ایک دوسری شاخ شمود تھی جس نے سنگ تراشی میں کمال کیا تھا اور شہروں کے شہر پہاڑوں کی کھوہ میں بناتے چلے گئے تھے حتی کہ بعض جگہ انہوں نے پتھر کاٹ کاٹ کر عجیب وغریب محل بنائے ہیں۔