انوارالعلوم (جلد 15) — Page 21
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کمزور اور چھوٹے سے بادشاہ کی اس لئے اطاعت کرتا ہے کہ وہ کمزور بادشاہ اس کا شہنشاہ ہے۔یہ صرف ایرانی فلسفہ کی ایجاد ہے اور اس سے در حقیقت امن کے قیام کے لئے ایک نیا راستہ کھولا گیا ہے۔ایرانی تاریخ میں بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ اصل بادشاہ کمزور ہو گیا ہے اور ماتحت بادشاہ بہت طاقت پکڑ گئے ہیں لیکن شہنشاہ کی آواز پر سب امداد کیلئے موجود ہو گئے ہیں۔آج کی برطانوی امپائر اور آخری زمانہ کی خلافت عباسیہ در حقیقت اسی فلسفہ کی نقلیں تھیں اور خلافت عباسیہ کے آخری دور کو اگر ہم غور سے دیکھیں تو اس کے وجود کی بنیاد اس امر پر تھی کہ درحقیقت اس کے تابع حکومتیں یا ایرانی تھیں یا ایرانی تہذیب کی خوشہ چیں تھیں اور چونکہ ان کے رؤساء اس خیال کے نسلی طور پر قائل چلے آتے تھے اس لئے باوجود طاقتور ہونے کے وہ خلافت کے برائے نام جھوٹے کو اٹھائے ہوئے تھے۔(۴) چوتھی تہذیب بابلی تہذیب بایلی تہذیب کی بنیاد علم ہندسہ اور ہیئت : ہے اس کی بنیاد علم ہندسہ اور ہیئت پر رکھی گئی تھی۔اس کے بانیوں کا خیال تھا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے سورج، چاند اور پرا۔تارے بنائے ہیں اور ایک نظام دنیا میں جاری کیا ہے انسانی ترقی اس نظام کی نقل کرنے سے ممکن ہے اس لئے ہمیں نظامِ شمسی پر غور کر کے اور اس کے راز معلوم کر کے اس کی اتباع کرنی چاہئے۔(۵) پانچویں تہذیب یعنی مغربی تحریک کا پیغام مادیت اور قوم پرستی معرفی تحریک کی بنیاد مادربست اور قوم پرستی پر ہے۔پانچوں تحریکوں کی مزید تشریح اختصاراً پانچوں مادی تحریکوں کا ذکر کرنے کے بعد اب میں ان کے بنیادی اصولوں کے نتائج کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔آرین تہذیب چونکہ نسلی امتیاز اور تفوق پر مبنی تھی باوجود بہت وسعت پا جانے کے کبھی کوئی امپائر نہ بناسکی۔نیز نسلی امتیاز کی وجہ سے ان میں وہ اتحاد بھی پیدا نہ ہو سکا جو ایرانیوں میں تھا۔اس کے مقابلہ میں رومن امپائر نے ترقی کی کیونکہ اس کے سیاسی اصول ایسے تھے کہ قوموں کو مفتوح