انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 23

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی وَفِرْعَوْنَ ذِى الأوتاد اور فرعونِ مصر بھی اسی تہذیب کا حامل تھا۔وہ بھی ذى الأوتاد تھا۔بعض نے اوتاد کے معنی خیموں کی میخیں کئے ہیں لیکن اس جگہ یہ معنی درست نہیں۔اس جگہ اؤتاد سے مراد وہ بلند عمارتیں ہیں جو بلند و بالا ہوں اور پہاڑ کی طرح اونچی نکل جائیں۔عربی میں پہاڑوں کو بھی اَوتَادُ الارض کہتے ہیں۔اور ناک کو بھی وَتَد کہتے ہیں کیونکہ وہ چہرہ کے باقی اعضاء سے اونچا نکلا ہوا ہوتا ہے۔یہ مصری عمارتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ عمارتیں پہاڑوں کی طرح مثلث شکل کی بناتے ہیں اور رہائشی گنجائش کا خیال نہیں رکھتے بلکہ اونچائی کا خیال رکھتے ہیں۔پس یذی الأوتاد سے مُراد نہایت بلند عمارتوں والے کے ہیں۔جس کسی کو مصر جانے کا موقع ملا ہو وہ جانتا ہے کہ اہرام مصری کس قدر اونچے ہیں۔دُور دُور سے لوگ انہیں دیکھنے آتے ہیں اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ اتنی بلندی پر وہ لوگ پتھر کس طرح اُٹھا کر لے گئے۔اہرام اتنے بلند ہیں کہ انسان کو ان پر چڑھتے ہوئے کافی دیر لگ جاتی ہے۔میں با وجود ارادہ اور خواہش کے ان میں سے کسی پر نہیں چڑھ سکا۔بلکہ ایک دوست ایک اہرام کے اوپر چڑھ گئے تو انہیں اوپر جاتے ہوئے اس قدر دیر ہو گئی کہ مجھے ڈر ہوا کہ ہم رات کو اندھیرا ہو جانے کے بعد وہاں سے گھر کی طرف روانہ ہو سکیں گے۔قطب صاحب کی لاٹ کی بلندی کو ان کی بلندی سے کوئی نسبت ہی نہیں۔یورپین لوگ بھی انہیں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ انسان کے برابر برابر پتھر وہ اتنی بلندی پر اُٹھا کر کس طرح لے گئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم فرعون کو دیکھو جو ایسی مثلث عمارتیں بنا تا تھا جو بڑی بلند اور مضبوط ہوتی تھیں۔فرماتا ہے اس تہذیب کے حاملوں نے اپنی اپنی ترقی کے زمانہ میں دنیا میں بہت فساد پیدا کر دیا تھا اور اپنی طاقت کی وجہ سے سخت متکبر ہو گئے تھے لیکن دیکھو کہ ہم نے بھی ان سے کیسا سلوک کیا اور کس طرح انہیں برباد کر کے رکھ دیا۔غرض بابلی تحریک میں عمارتوں کی تعمیر پر اور رصد گاہوں کے بنانے پر زیادہ زور تھا۔عاد کے آثار میں ہر جگہ عظیم الشان عمارتیں نظر آتی ہیں۔پہلے یورپ کے لوگ عاد قوم کے وجود سے انکار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ عاد نام کی کوئی قوم نہیں گزری مگر ہیں سال سے جب سے کہ عاد کے آثار ملے ہیں وہ بھی ماننے لگ گئے ہیں کہ عاد نام کی ایک قوم ہوئی ہے بلکہ میں نے حال ہی میں ایک عیسائی مؤرخ کی کتاب پڑھی ہے جس میں وہ عاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عاد کے متعلق مورخوں کی سینکڑوں صفحوں کی کتابیں اس سے زیادہ معلومات بیان نہیں کر سکیں جتنی