انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 399

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور ماننے لگ گئے۔کیا مسلمان اگر یہ دُہراتے چلے جائیں گے کہ ہر مؤمن کی جان، مال اور آبرو کی عزت کرنا دوسرے مسلمان پر فرض ہے اور جو اس کی ہتک کرتا ہے وہ ویسا ہی مجرم ہے جیسے خانہ کعبہ یا ذوالحجہ یا حج کے ایام کی ہتک کرنے والا تو کیوں دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا اور کیوں فتنہ و فساد مٹ نہیں جائے گا۔اب پیچھے جو کچھ غفلت ہو چکی وہ تو ہو چکی آئندہ کیلئے میں یہ حدیث آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں اور رسول کریم ﷺ کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا تا ہوں وہ شفیق باپ جس نے ساری عمر تمہارے لئے قربانیاں کیں اور جس کی تعلیم آج تک مردوں اور عورتوں پر احسانات کرتی چلی آئی ہے اس نے اپنی وفات کی خبر سن کر تم سب کو کہا کہ یاد رکھوان دِمَاءَ كُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرُمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هذَا اور پھر فرمایا جو شخص یہ حدیث سنے اس کا فرض ہے کہ وہ اُسے دوسروں تک پہنچا دے پس باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو یہ بات بتائے ماں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو یہ بات بتائے۔دادا کا فرض ہے کہ وہ اپنے پوتے کو بتائے اور پوتوں اور پڑ پوتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹوں اور پوتوں کو بتا ئیں۔اگر مسلمان اسی طرح رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے چلے جاتے تو ہر مسلمان اس بات پر فخر کا اظہار کر سکتا کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث کسی کتاب میں پڑھنے کی بجائے رادیوں کی زبان سے براہ راست سنی ہے اور یہ فخر کچھ کم فخر نہ ہوتا حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے رسول کریم ﷺ کی چالیس حدیثیں ایسی پہنچی ہیں جن کا سلسلہ اسناد بغیر کسی وقفہ کے رسول کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔اسی طرح اگر مسلمان یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے چلے جاتے تو ہر مسلمان یہ کہتا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث براہ راست آپ سے سنی ہے۔پس میں آج آپ لوگوں کے سامنے یہ چھوٹی سی بات پیش کرتا ہوں کہ ہر شخص اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ وہ کسی دوسرے کو رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث سنا دے گا اور جب سنا چکے تو کہے ا کہ رسول کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس مجلس میں یہ حدیث بیان ہو اس کا حاضر غائب کو سنا دے اس طرح یہ حدیث چکر کھا کر پھر پانچ سات ماہ کے بعد تمہارے پاس پہنچے گی اور تمہیں پھر وہ نظارہ یاد آ جائے گا جب رسول کریم علی اللہ کو اپنی وفات کا الہام ہوا اور آپ کو یہ خطرہ محسوس ہو ا کہ وہ لوگ جنہیں زندگی میں سنبھالتا رہا میری وفات کے بعد نہ معلوم کن فتنوں میں مبتلاء ہو جائیں تو آپ نے فرمایا میں تو اب جاتا ہوں مگر دیکھو ان دِمَاءَ كُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمُ