انوارالعلوم (جلد 15) — Page 398
انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں جو بعد میں آئیں گے۔پس جس شخص کے کان میں میری یہ بات پڑے اس کا فرض ہے کہ وہ یہ بات اپنے دوسرے بھائی کے کان میں بھی ڈالے۔پھر آپ نے اس پر اور زیادہ زورد ور دینے کیلئے اس فقرہ کو ہرایا اور فرمایا الافليُبَلِّعَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ اب دیکھو یہ کتنی لطیف نصیحت ہے جو رسول کریم ﷺ نے کی اور آپ نے اس میں اصلاح اعمال کا کیا لطیف گر بیان فرمایا ہے۔اگر مسلمان اس گر کو سمجھ لیتے تو وہ ہزاروں فتنوں سے بچ جاتے۔آج کل لوگ فاتحہ کے کارڈ تقسیم کرتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو اس پر یہ لکھ کر بھیج دیتے ہیں کہ جو اسے دوسرے تک نہیں پہنچائے گا وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا اور اس طرح لوگ ڈر کے مارے دوسروں تک پہنچاتے جاتے ہیں۔مگر دیکھو رسول کریم ﷺ نے اس طریق کو کس عمدگی اور خوبی کے ساتھ جاری کیا۔وہ تحریر کا زمانہ نہیں تھا کہ آپ کارڈوں پر لکھوا کر فرماتے کہ ایک دوسرے کو پہنچاتے چلے جاؤ۔وہ ایسا زمانہ تھا کہ لوگ باتیں سنتے اور پھر اپنے دلوں اور دماغوں میں محفوظ رکھتے۔اب آپ لوگوں نے مجھ سے یہ حدیث سنی ہے اور چونکہ رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو بھی اسے سنے وہ دوسروں تک پہنچا دے اس لئے آپ میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کو بتائے کہ دیکھو رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جس طرح خانہ کعبہ کی تمہارے دل میں عزت ہے، جس طرح حج کے دن کی تمہارے دل میں عزت ہے، جس طرح ذوالحجہ کی تمہارے دل میں عزت ہے وہی عزت تمہیں ایک ادنیٰ سے ادنی مؤمن کی جان ، اس کے مال اور اس کی آبرو کی کرنی چاہئے اور ساتھ ہی کہہ دو کہ رسول کریم ﷺ کا یہ بھی حکم ہے کہ جو شخص یہ حدیث سنے اسے دوسروں تک پہنچا دے۔اسی طرح یہ بات لوگوں میں پھیلتی چلی جائے گی اور چونکہ آدمی محدود ہیں اس لئے چکر کھا کر لازماً یہ بات ہمارے پاس بھی پہنچے گی اور پھر ہمارا فرض ہو جائے گا کہ ہم اوروں کو سنائیں اور یہ امر ان کے ذہن نشین کر دیں کہ ایک مسلمان کے خون مال اور آبرو کی کیا قیمت ہے۔اگر مسلمان اس حدیث کو انہی معنوں میں لیتے جو میں نے بیان کئے ہیں تو سال میں دو چار دفعہ وہ ضرور یہ حدیث سن لیتے کہ رسول کریم ﷺ نے وفات کے قریب یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کا خون، ان کا مال اور ان کی آبرود وسرے مسلمانوں پر ویسی ہی حرام ہے جیسے مکہ مکرمہ، جیسے ذوالحجہ اور جیسے حج کا دن۔میں جانتا ہوں کہ جو چیز بار بار دہرائی جائے اُس کا لوگوں پر اثر ہوتا چلا جاتا ہے۔عیسائیوں نے جب بار بار کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں تو لوگ انہیں خدا کا بیٹا