انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 397

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هذَا فِي بَلَدِكُمْ هذَا ث جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر میدان میں آئے اور آپ نے ایک تقریر کی جس میں فرمایا۔اے دوستو ! سن لو تمہاری ایک دوسرے کی جانیں، تمہارے ایک دوسرے کے اموال اور تمہاری ایک دوسرے کی عزتیں خدا نے تم پر حرام کر دی ہیں اور تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اپنے کسی بھائی کی جان کو تکلیف دو، یا اس کے مال پر حملہ کرو ، یا اس کی عزت پر حملہ کرو۔جس طرح حج کا دن خدا نے عزت والا بنایا ہے ویسے ہی ادنیٰ سے ادنی مسلمان کے خون ، اس کے مال اور اس کی عزت کی تو قیر اس نے تم پر واجب کی ہے اور جس طرح ذوالحجہ کو عزت حاصل ہے اسی طرح خدا نے ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے خون ، اس کے مال اور اس کی عزت کو مقام بخشا ہے اور جو عزت خدا نے مکہ کو دی ہے وہی عزت اس نے ایک ادنیٰ سے ادنی مسلمان کے خون، مال اور عزت کو دی ہے۔پس جو شخص اپنے کسی بھائی کی جان پر حملہ کرتا ہے وہ مکہ پر حملہ کرتا ہے، وہ ذوالحجہ پر حملہ کرتا ہے، وہ حج کے دن پر حملہ کرتا ہے، اسی طرح جو شخص اپنے بھائی کے مال پر حملہ کرتا ہے وہ مکہ پر حملہ کرتا ہے ، وہ ذوالحجہ پر حملہ کرتا ہے اور وہ حج کے دن پر حملہ کرتا ہے۔اسی طرح جو شخص اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کرتا ہے وہ بھی مکہ پر حملہ کرتا ہے وہ ذوالحجہ پرحملہ کرتا ہے وہ حج کے دن پر حملہ کرتا ہے۔اے عزیز و! کبھی تم نے غور کیا کہ جب کسی کے مال میں تم خیانت کرتے ہو یا کسی کا قرضہ ادا نہیں کرتے یا غیظ و غضب سے مشتعل ہو کر دوسرے کو مارتے یا اسے گالیاں دیتے ہو۔یا جوش میں اسے ذلیل کرنے اور لوگوں میں رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہو تو تم خدا کے حضور کتنے بڑے جُرم کے مرتکب بنتے ہو۔کیا تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا ہے جو اپنے ہاتھ سے کعبہ کی اینٹیں گرانے کی جرات کر سکے۔اگر ایک منافق اور ذلیل ترین انسان بھی ایسی جرات نہیں کر سکتا تو تم ایک مسلمان کی عزت ایک مسلمان کے مال اور ایک مسلمان کی جان پر کس طرح حملہ کرتے ہو جبکہ محمد رسول اللہ ﷺ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر مسلمان کی جان ، اس کا مال اور اس کی عزت خدا کے حضور وہی مقام رکھتی ہے جو جج کا دن رکھتا ہے جو ذ والحجب رکھتا ہے اور جو مکہ مکرمہ رکھتا ہے۔پھر ایک دوسری روایت میں جوابی بکرہ سے مروی ہے آتا ہے کہ رسول کریم ہے جب یہ بات بیان فرما چکے تو آپ نے فرمایا اَلا فَلْيُبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ث کہ اے دوستو تم تو میرے سامنے موجود ہو۔مگر تمہارے سوا کچھ اور لوگ بھی ہیں جو اس وقت اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے