انوارالعلوم (جلد 15) — Page 370
انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب مرد ر کھتے ہیں۔وہ قرآن کریم ہی ہے جس کے ذریعہ پہلی دفعہ دنیا میں یہ آواز بلند ہوئی کہ ولَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عليمن اے مرد و ! جو عورتوں کے حقوق تلف کرتے آئے ہو اب ہم اعلان کرتے ہیں کہ جس طرح تمہارے بعض حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے بعض حقوق تم پر ہیں۔اگر عورتیں دوسری قوموں کو قرآن کریم کا یہ اعلان سنا دیتیں اور اپنے بچوں کو بھی بتا تیں کہ عورتوں کو بھی ایسے ہی اختیارات حاصل ہیں جس طرح مردوں کو ، تو آج دنیا اس تعلیم سے بے بہرہ نہ رہتی اور نہ ذلت میں پھنستی۔اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔اگر تم نے اپنے بیٹوں کو یہ تعلیم دی ہوتی کہ عورتوں کے حقوق شریعت اسلامیہ نے قائم کئے ہوئے ہیں جنہیں تو ڑ نا شدید ترین گناہ ہے تو تم کبھی غلامی کی زنجیروں میں نہ جکڑی جاتیں۔پس یہ قرآنی تعلیم ہے اور اس پر عمل کرنا اور دوسروں سے کرانا ہر مؤمن کا فرض ہے، کسی کا احسان نہیں۔اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملہ میں ہماری طرف سے کوئی کوتا ہی نہیں ہو سکتی۔اور جب تک کوئی خدا تعالیٰ کو ماننے والا ہے عورتوں کی ترقی و تنظیم کیلئے اس کی طرف سے ضرور کوششیں جاری رہیں گی کیونکہ اگر وہ کوتاہی کرے تو وہ تمہارا گنہ گار نہیں بلکہ خدا کا گنہگار ہو گا لیکن اس وقت عورتوں کا ایک حصہ بعض ایسے حقوق طلب کرنے لگ گیا ہے جو قرآن کے خلاف ہیں۔مثلاً یہ کہ عورتیں پارلیمنٹ کی ممبر بنیں ، گھوڑے کی سواری کریں، ظاہر ہے کہ ایسی عورت بچوں کی تربیت نہیں کرسکتی۔یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ماں کی گودتربیت کا موجب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے نرسنگ ہوم مقرر ہیں جہاں بیچے بھیج دیئے جاتے ہیں۔دائیاں دودھ پلاتی اور کھلاتی رہتی ہیں۔جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو بورڈنگ میں داخل کر دئیے جاتے ہیں کیونکہ مائیں ناچ گانے میں لگی رہتی ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے انسانی زندگی کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔جس طرح ڈاکٹر اور وکیل دونوں اپنی اپنی جگہ مفید کام کرتے ہیں اسی طرح عورتیں اپنی جگہ کام کر رہی ہیں اور مرد اپنی جگہ اور مرد اور عورت دونوں کے کاموں کے دائرے الگ الگ ہیں لیکن اگر یہ اصول رائج کیا جائے کہ سب لوگوں کو وکیل بننا چاہئے یا ساری دنیا ڈاکٹر ہونی چاہئے یا سارے ہی لوہار یا ترکھان ہونے چاہئیں تو دنیا کا کارخانہ تباہ ہو جائے۔برابری کے یہ معنی نہیں کہ عورت اور مرد دونوں ایک کام کریں بلکہ یہ ہیں کہ قومی طور پر دونوں پر یکساں طور پر ذمہ داریاں عائد ہیں۔چنانچہ دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے عورت پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد کی ہوئی ہے کہ ایک طرف وہ لڑکے کی تربیت کرتی ہے اور دوسری طرف لڑکی کی۔گویا ایک طرح سارے زمانہ کو اس کی غلامی میں دیدیا جاتا ہے۔اسی حقیقت کو