انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 369

انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب ( تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۳۹ء بر موقع [ خلافت جو بلی] جلسہ سالا نہ قادیان) لجنہ اماءاللہ قادیان کی طرف سے جو ایڈریس اس وقت پڑھا گیا ہے میں پہلے تو اس کے متعلق انہیں جَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ کہتا ہوں پھر انہیں یقین دلاتا ہوں کہ طبقہ نسواں کی اصلاح کا کام ہرگز کسی شخص کا احسان نہیں بلکہ یہ ایک فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں اور ان کے جانشینوں کے کندھوں پر عائد کیا جاتا ہے۔پس جو فرض میں خدا تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ادا کرتا ہوں وہ کوئی احسان نہیں بلکہ اپنی عاقبت کے لئے میں ایک ذخیرہ جمع کرتا ہوں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اور مرد سب کے سب ایک ہی مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور وہ مقصد خدا تعالیٰ کے قرب کا حصول ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب مرد اور عورتیں مل کر اس کے حضور پاک دل اور نیک ارادہ لے کر آئیں اور خدا تعالیٰ کے قرب میں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجے حاصل کریں۔سارا قرآن اسی سے بھرا پڑا ہے۔چنانچہ جہاں جنت کا ذکر ہے وہاں مردوں اور عورتوں کو اکٹھا شامل کیا ہے۔گو احکام میں مردوں اور عورتوں کا اکٹھا ذکر نہیں بلکہ مردوں کے ذکر میں ہی عورتوں کو شامل کر لیا گیا ہے اور در حقیقت قرآن حکیم ہی وہ واحد اور کامل کتاب ہے جس نے عورتوں کے حقوق قائم کئے۔اس سے پہلے نہ موسیٰ کی کتاب میں ان تمام حقوق کا ذکر تھا، نہ عیسی کی تعلیمات میں یہ تمام باتیں پائی جاتی تھیں، نہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور دیگر انبیاء نے ان امور کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔صرف قرآن کریم ہی ہے جس نے دنیا کو بتلایا کہ عورت بھی ویسی ہی ترقی کی تڑپ اپنے اندر رکھتی ہے جس طرح مرد، اور ویسی ہی اُمنگیں، ویسے ہی جذبات اور ویسی ہی قربانی کی روح اور ارادے رکھتی ہے جس طرح