انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 371

انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب رسول کریم ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ عورت کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ہے اسی طرح مرد کو کہا گیا ہے کہ فلاں بات تم عورت سے منوا سکتے ہو اور فلاں نہیں۔مثلاً اپنے مال میں وہ بالکل آزاد ہے۔عجیب بات ہے کہ یورپ جو آج شور مچارہا ہے کہ اس نے عورت کی عزت اور آزادی قائم کی وہاں بھی عورت کے حقوق صرف ہیں سال سے رائج ہوئے لیکن اسلام نے ساڑھے تیرہ سو سال سے عورت کے حقوق کو قائم کیا ہوا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتیں نہ تو یورپ کی آزادی اختیار کریں اور نہ جہالت میں گرفتار رہیں۔مثلاً بعض عورتیں یہ کہہ دیا کرتی ہیں کہ مذہب خدا کی مرضی کا نام ہے اور جب خدا کی مرضی سمجھ میں آ جائے تو خاوند کی مرضی اس کے متعلق ضروری ہوتی ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ خاوند کو یا بھائی کو یا باپ کو مذہب کے معاملہ میں عورت پر کسی قسم کا تصرف حاصل ہے۔ہر عورت کو حق ہے کہ جب دین کی کوئی بات سمجھ میں آ جائے تو اس پر عمل کرے خواہ سب اس کے مخالف ہوں۔وہ یہ عذر نہیں کر سکتی کہ میرے باپ یا بھائی یا خاوند نے اجازت نہیں دی۔خدا کہے گا کہ صداقت کے معاملہ میں میں نے تجھے کسی کے ماتحت نہیں رکھا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا تعلق دماغ سے رکھا ہے اور دماغ میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔اب تم اتنی عورتیں یہاں بیٹھی ہو ممکن ہے کسی عورت کا بچہ شور مچا رہا ہو اور تم اپنے دل میں یہ کہہ رہی ہو کہ کیسی نالائق ہے اس نے لیکچر خراب کر دیا مگر وہ تمہارے ان خیالات سے بالکل نا واقف ہو گی۔تو دماغ کو اللہ تعالیٰ نے ایک مخفی خزانہ کی صورت میں بنایا ہے جس کے اوپر نہ بادشاہ کو حکومت حاصل ہے نہ باپ یا بیٹے یا استاد کو۔گویا خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ ایک ایسا صندوق دیا ہے جس میں تم اپنے ضروری را ز رکھ سکتی ہو۔اگر تم کسی کو دس سال بھی اپنے پاس رکھو تو اس کو پتہ نہیں لگے لگا کہ تمہارے اس صندوق میں کیا ہے جب تک تم خود نہ بتلاؤ کہ میرے دل اور دماغ میں کیا ہے۔وہ تمہارا ذاتی ٹرنک ہے اگر تم کوئی راز کسی کو بتلا نا چاہتی ہوتو کنجی لگا کر کھول لیتی ہوا اور جو نہیں بتلا نا چاہتی کجی نہیں لگا تھیں۔پس خدا تعالیٰ نے ہرا ایک کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس خزانہ کو محفوظ رکھے۔یہ ہر ایک کا ذاتی ٹرنک ہے جس میں کسی کو اگر کوئی شریک کرنا چاہتا ہے تو اس کا دروازہ کھول دیتا ہے اور اگر شریک نہیں کرنا چاہتا تو اس کو نہیں کھولتا۔پس اللہ تعالیٰ نے دماغ کی کنجی تمہارے ہاتھ میں دی ہے اور سچائی کے معاملہ میں نہ تو مرد کو اس پر حق حاصل ہے نہ بھائی کو۔ہزار ہا عورتیں ایسی ہیں جو سچائی کے کھلنے پر بھی نہیں مانتیں اور ایمان کو محض باپ یا ماں یا خاوند وغیرہ کے ڈر کی وجہ سے حاصل نہیں کر سکتیں۔آنحضرت علی