انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 352

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب خالی ڈانٹ ڈپٹ ان پر کیا اثر کر سکتی ہے۔کچھ عرصہ بعد وہی شخص اس کے ہاں مہمان ہوا اس نے بھی اپنے نوکروں کی مستعدی اور سلیقہ شعاری دکھانے کے لئے اسی طرح کیا۔یعنی کھانا اس کے سامنے رکھ کر نوکر کو دہی کے لئے بھیجا اور کہنا شروع کیا کہ اب وہاں پہنچا ہو گا۔اب کوٹ رہا ہوگا اب فلاں جگہ ہو گا۔اب بس پہنچا ہی چاہتا ہے آپ کھانا شروع کریں اور پھر نام لے کر آواز دی کہ کیوں بھئی آگئے۔اُدھر سے نوکر نے کہا کہ جی آپ تو عقل ہی مار دیتے ہیں میں تو ابھی جوتا ہی تلاش کر رہا ہوں۔یہ لطیفہ دراصل ہندوستانیوں کی ذہنیت کا نقشہ ہے۔وہ اس طرح قیاس کر لیتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے اچھے اچھے تعلیم یافتہ بی اے اور ایم اے پاس اسی مرض کا شکار ہیں۔وہ کہلاتے تو بی اے اور ایم اے ہیں مگر عقل کے لحاظ سے وہ پرائمری پاس بھی نہیں ہوتے۔اس کی بڑی وجہ تو سستی ہے اور جب سستی کے باعث کوئی کام نہ کیا تو پھر قیاس کرتے ہیں بہانہ سازی سے کام لیتے ہیں اور بسا اوقات تو میں نے دیکھا ہے کہ کسی بات کے لئے جو ہدایات دی جاتی ہیں خود اپنے پاس سے ہی ان کا جواب بھی دے دیتے ہیں نہ پیغام آگے پہنچاتے ہیں اور نہ اس کی بات سنتے ہیں بلکہ خود بخود ہی جواب دینا شروع کر دیتے ہیں۔پس میں خدام الاحمدیہ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم نے دنیا میں کوئی کام کرنا ہے تو قیاس کرنا چھوڑ دو۔جب کوئی کام تمہارے سپرد کیا جائے تو اسے پورے وقت پر ادا کرو اور جب تک خود نہ دیکھ لو کہ وہ ہو گیا ہے مطمئن نہ ہو۔گھر بیٹھے بیٹھے ہی یہ قیاس کر لینا کہ کام ہو گیا ہو گا اول درجہ کی نالائقی اور حماقت ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کام نہ کرنے کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دماغ بھی ٹھیک طور پر کام نہیں کرتے اور یہ حالت ہے کہ کسی کو پیغام کچھ دو اور وہ آگے پہنچائیں گے کچھ اور، دماغ بات سنتے اور سمجھتے ہی نہیں۔اس لئے خدام الاحمدیہ یہ بھی مشق کریں کہ جو پیغام دیا جائے اسے صحیح طور پر پہنچاسکیں۔فوجوں میں یہ دستور ہے کہ اس کی مشق کرائی جاتی ہے جب کسی کو کوئی افسر پیغام دے تو دینے کے بعد پوچھتا ہے میں نے کیا کہا اور پھر وہ شخص اسے دُہراتا ہے۔پچھلی جنگ میں ایک تجربہ کیا گیا کہ کس طرح بات دُور تک پہنچتے پہنچتے کیا بن جاتی ہے۔فرانس کے جنگی محاذ پر شہزادہ ویلز جو بعد میں ایڈورڈ ہشتم کے نام سے تخت نشین ہو کر ریٹائر ہو چکے ہیں گئے تو ایک بڑی بھاری پریڈ ہوئی جس میں یہ تجربہ دکھایا گیا کہ پیغام پہنچانے میں لوگ کیسی کیسی غلطیاں کرتے ہیں۔جرنیل نے پہلے سپاہی کو پیغام دیا کہ آگے پہنچا دو کہ شہزادہ ویلز آئے ہیں اور آخری افسر کو جو اطلاع اس طرح ملی وہ یہ تھی کہ دو پیسے مل گئے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوئی کہ ایک سے دوسرے اور تیسرے تک بات