انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 353

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب کے پہنچنے میں کچھ تو لب ولہجہ کی تبدیلی سے فرق پڑا اور کچھ یہ کہ سننے والے نے قیاس کر لیا۔یہ تو تجربہ کرنے کے لئے پیغام بھیجا گیا تھا لیکن اگر واقعی یہ پیغام پہنچانا مقصود ہوتا تو کس قدر نقصان ہوتا۔پس کام میں قیاس کرنا چھوڑ دو۔دیکھو جب کوئی بچہ اپنی ماں سے جدا ہو جا تا ہے تو کس طرح اس کے دل میں مختلف وساوس اُٹھتے ہیں۔وہ یہی قیاس نہیں کر لیتی کہ وہ آرام سے بیٹھا ہو گا بلکہ سوچتی ہے کہ کہیں بھینس کا پاؤں اس پر نہ آ گیا ہو، گھوڑے نے اسے دوستی نہ مار دی ہو، گدھے نے لات نہ ماردی ہو، سیڑھی سے گر کر اس کا سر نہ پھٹ گیا ہو ، کوئی اسے اُٹھا کر نہ لے گیا ہو اور یہ ایک طبعی بات ہے۔جب تک یہ وساوس اس کے دل میں پیدا نہ ہوں وہ اپنے بچہ کی پوری پوری نگرانی کر ہی نہیں سکتی۔پس تم بھی کام کی اسی طرح نگرانی کرو۔کام سے محبت کا علم ہی اُسی وقت ہوسکتا ہے جب وساوس پیدا ہونے لگیں۔بڑی سے بڑی تعلیم یافتہ ماں کو دیکھ لو بچہ کا سوال آتے ہی فوراً اس کے دل میں وساوس پیدا ہونے لگیں گے۔یہ دراصل کامل محبت کا نتیجہ ہے وہ دنیا بھر کے معاملات کے متعلق قیاسات کرلے گی لیکن بچہ کا سوال سامنے آتے ہی اس کے دل میں وساوس پیدا ہونے لگیں گے اور یہ کامل محبت کا نتیجہ ہے پس اس قسم کی احتیاط بہت اچھی بات ہے۔حضرت خلیفہ اول بعض اوقات کوئی بات کہہ دیتے مگر پھر خیال ہوتا کہ وہ شاید مجھے بُری لگی ہے مجھ سے پوچھتے تو میں انکار کرتا۔مگر آپ فرماتے میاں! مجھے خیال تھا کہ شاید بُری لگی ہو۔عشق است و ہزار بدگمانی۔مجھے چونکہ آپ سے بہت محبت ہے اس لئے مجھے شبہ رہتا ہے کہ کہیں ناراض تو نہیں ہو گئے۔پس یا درکھو کہ اگر دل میں وسوسہ پیدا نہیں ہوتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عشق نہیں ہے۔یہ ناممکن ہے کہ کام کا عشق ہو اور دل میں وسوسے پیدا نہ ہوں اور رہ رہ کر یہ خیال نہ آئے کہ شاید کام نہ ہوا ہو۔میری عمر میں بیسیوں ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ میں نے اپنی اس طبیعت کی وجہ سے گھر بیٹھے بیٹھے بیسیوں کاموں کی اصلاح کرا دی۔میں نے کسی کام کے لئے کہا اور ناظر متعلقہ نے اس کا آرڈر دے کر سمجھ لیا کہ ہو گیا اور جب میں نے دریافت کرایا تو کہہ دیا کہ ہو گیا ہے لیکن جب تحقیقات کرائی گئی تو معلوم ہوا نہیں ہوا اور میں نے اسے پھر کرایا۔پس ایک بات تو یہ یادرکھو کہ جو کام تمہارے سپرد کیا جائے اس کے متعلق کبھی مطمئن نہ ہو جب تک خود تسلی نہ کر لو کہ وہ ہو گیا ہے۔آنکھ سے نہ دیکھ لو یا اسے آنکھوں سے دیکھنے والا خود تمہارے سامنے بیان نہ کرے کہ وہ ہو گیا ہے اور دوسرے یہ بات یاد رکھو کہ یہ خیال کبھی نہ کرو کہ