انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 351

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب قیاس کر لینا کہ یوں ہو گا محض سستی کا نتیجہ ہوتا ہے اور ایسے لوگ میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات اتنے دلیر ہو جاتے ہیں کہ کہہ دیتے ہیں فلاں کام یوں ہو گیا۔وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ میرا خیال ہے ہو گیا ہوگا بلکہ خیال کا لفظ بھی بیچ میں سے اُڑا دیتے ہیں اور بڑی دلیری سے کہہ دیتے ہیں کہ ہو گیا ہے اور اکثر کاموں میں خرابی ایسے خیالات کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ اس عادت کو بالکل چھوڑ دیں اور قیاس سے کام نہ لیا کریں جب تک ذاتی طور پر یہ اطمینان نہ کر لیں کہ جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا وہ ہو چکا ہے۔ان کو وہم رہے کہ شاید خراب ہو گیا ہو۔واقعات کی دنیا میں واقعات کو دیکھا کریں واقعات کی دنیا میں قیاس کا کوئی کام نہیں۔میں ہمیشہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں مگر میں نے دیکھا ہے یہ مرض دور نہیں ہوتا اور قیاس سے بہت کام لیا جاتا ہے۔اہلِ حدیث کا عقیدہ ہے کہ جس نے پہلے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔پہلے مجھے اس قول کی سمجھ نہیں آیا کرتی تھی مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات ٹھیک ہے۔قیاس یوں تو اچھی چیز ہے لیکن واقعات میں اس کو داخل کر ناسخت خطر ناک ہے۔ایک فلسفی اگر فلسفہ کے مسائل میں قیاس سے کام لیتا ہے تو یہ بات تو سمجھ میں آ سکتی ہے لیکن واقعات کی دنیا میں اس کا کوئی تعلق نہیں۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کہتے ہیں کوئی شخص کسی کے پاس مہمان گیا میزبان خود نہایت با قاعدہ اور وقت کا پابند آدمی تھا اور اپنے ملازموں کو بھی اس نے وقت کا پابند بنایا ہوا تھا۔اس نے اندازہ کیا ہوا تھا کہ اگر نوکر کو فلاں دُکان پر بھیجا جائے تو وہ کتنے منٹ میں واپس آتا ہے وہ اپنے مہان کو اپنے نوکروں کی ہنر مندی بھی دکھانا چاہتا تھا اس لئے اس نے مہمان کے آگے کھانا رکھوا دیا اور نوکر سے کہا کہ فلاں دُکان سے جا کر فوراً دہی لے آؤ تھوڑی دیر بعد اس نے مہمان سے کہا کہ اب وہ دکان پر پہنچ چکا ہوگا۔اب رہی لے چکا ہوگا اور واپس آ رہا ہو گا۔اب فلاں مقام پر پہنچ گیا ہو گا۔بس آپ کھانا شروع کریں وہ آیا ہی چاہتا ہے اور ساتھ آواز دی کہ ارے فلاں آ گیا۔اِدھر اُس نے یہ کہا اور اُدھر اس نے جواب دیا کہ ہاں حضور آ گیا۔مہمان یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اس نے کہا کہ نوکروں کا ایساسد ھا ہوا ہونا تو بہت عزت افزائی کا موجب ہے۔ایسے آقا کی بھی ہر دیکھنے والا تعریف کرنے پر مجبور ہے۔اس لئے مجھے بھی اپنے نوکروں کو اسی طرح سیدھانا چاہئے چنانچہ گھر واپس پہنچا تو اس نے بھی نوکروں کو ڈانٹنا ڈ پٹنا شروع کیا کہ کام جلدی جلدی اور وقت کی پابندی کے ساتھ کیا کرو۔مگر جو شخص خود پابند نہ ہو اور جس کے نوکر روز دیکھیں کہ وہ خود وقت کا پابند نہیں اور سُست آدمی ہے تو