انوارالعلوم (جلد 15) — Page 350
انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب میں نے کبھی نہیں کی۔ہمارے ملک میں یہ عام مرض ہے کہ جسے کوئی کام سپرد کیا جائے وہ گھر بیٹھے بیٹھے ہی فرض کر لیتا ہے کہ ہو گیا ہو گا یہ درست نہیں۔میں نے اپنی اس عادت سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے اور بسا اوقات نہایت خطرناک نتائج سے جماعت محض اس عادت کی وجہ سے بچ گئی۔کئی بار ایسا ہوا کہ کسی ناظر یا کسی اور شخص کو کوئی کام بتایا گیا اس نے آگے دوسرے کے سپر د کر دیا اور خود فرض کر لیا کہ ہو گیا ہوگا لیکن مجھے گھر میں بیٹھے بیٹھے یہ خیال ہوا اور میں نے پتہ کرایا تو معلوم ہوا نہیں ہوا تھا اور اس طرح وہ بر وقت کر لیا گیا اور اس وجہ سے کئی حوادث سے جماعت بچ گئی۔میرے توجہ دلانے سے وہ کام ہو گیا اور نقصان نہ ہوا اور خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ بھی اس عادت کی نقل کریں۔ہندوستان میں نکما پین کی زیادہ وجہ یہی ہے کہ لوگ قیاس بہت کرتے ہیں۔ہمارے ہاں بھی روزانہ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔کئی بار میں کوئی کام بتا تا ہوں اور جب پرائیوٹ سیکرٹری سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہو گیا ہے مگر جب بعد میں غلطی کا علم ہوتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے فلاں شخص کو کہ دیا تھا اور خیال تھا کہ اس نے کر دیا ہو گا۔حالانکہ کام جس شخص کے سپر د کیا جائے اسے یقین ہونا چاہئے کہ ہو چکا ہے محض قیاس کر کے مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے۔یہ نکھا پن کی علامت ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کوئی شخص سفر پر گیا اور کسی لڑکے کو بطور خادم ساتھ لے گیا ایک رات وہ کسی سرائے میں ٹھہرے۔رات کو بارش شروع ہو گئی اسے چونکہ خیال تھا کہ بارش ختم ہوتو سفر شروع کر کے آگے چلیں تا یہ جلد طے ہو اس لئے رات کو کئی بار اُس کی آنکھ کھلی۔اُس نے نوکر کو آواز دی اور کہا کہ باہر جا کر دیکھو بارش ہو رہی ہے یا نہیں ؟ مگر نوکر نے بجائے اس کے کہ باہر جا کر دیکھتا وہیں پڑے پڑے جواب دیا کہ ابھی باہر سے بلی آئی تھی میں نے دیکھا وہ بھیگی ہوئی تھی اس لئے بارش ضرور ہو رہی ہے۔حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ممکن تھا بلی کسی نالی میں سے گزر کر آئی ہو اور اس وجہ سے بھیگ گئی ہو یا کسی اور وجہ سے ہو۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے نوکر سے کہا کہ لیمپ گل کر دو۔اُس نے جواب دیا کہ آپ کو اندھیرے میں نیند آتی ہے مگر میں روشنی میں سونے کا عادی ہوں اگر لیمپ گل کر دیا گیا تو مجھے نیند نہیں آئے گی اس لئے آپ منہ پر لحاف ڈال لیں آپ کے لئے گویا لیمپ بجھ گیا۔تھوڑی دیر بعد اس نے پھر کہا کہ ہوا تیز آ رہی ہے اُٹھ کر دروازہ بند کر دو تو اس نے جواب دیا کہ دو کام میں نے کر دیئے ہیں ایک آپ خود اُٹھ کر کر لیں۔تو اس قسم کی ستیاں ہمیشہ قیاس آرائیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ایسے ہی قیاس کی ایک اور مثال بھی ہے۔ایسا