انوارالعلوم (جلد 15) — Page 349
انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب مشغول ہوں اور آزاد نہ ہوں ایسے جلسے کرنا جن میں قادیان کے لوگوں کی حاضری ضروری ہو ٹھیک نہیں اور ہمیں ایسے جلسے کر کے منتظمین کو پریشانی میں مبتلا کرنا نہیں چاہئے اس لئے آئندہ خدام الاحمدیہ کا جلسہ کسی دوسرے دنوں میں ہونا چاہئے۔مثلا شوری کے موقع پر کیا جا سکتا ہے یا اس کیلئے الگ وقت مقرر کئے جائیں تو یہ زیادہ موزوں ہوگا۔الگ دن مقرر کرنے سے شروع میں کچھ دقت ضرور پیش آئے گی اور بعض ممبر شریک نہیں ہوں گے مگر اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے جن لوگوں کے نزدیک ممبری کی اتنی اہمیت بھی نہ ہو کہ وہ اپنے جلسہ کے لئے سال میں ایک بار جمع ہو جائیں وہ دراصل ممبری کے قابل ہی نہیں ہیں۔خاکساروں کو دیکھو اس نام نہاد جہاد میں جو انہوں نے لکھنؤ میں شروع کر رکھا تھا وہ اپنے پاس سے کرایہ خرچ کر کے پہنچتے رہے ہیں اور اس طرح قید ہو کر اپنا کاروبار علیحدہ تباہ کرتے رہے ہیں اور دیگر نقصان علیحدہ کرتے رہے ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ خدام الاحمدیہ کے ممبر دوسرے ایام میں اپنے جلسہ میں شرکت کے لئے نہ آئیں اور پھر جو نہ آئیں ان کے متعلق کسی تشویش میں پڑنا اور خیال کرنا کہ کیا ہو گا باطل بات ہے ہمیں ایسے حکموں کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔پس میرے نزدیک شورای کے موقع پر جلسہ منعقد کرنے کی نسبت بھی یہ بہت بہتر ہے کہ الگ ایام مقرر کئے جائیں اس سے نو جوانوں کو اس تحریک میں شمولیت کی بھی ترغیب ہوگی اور یہ طریق گویا اس تحریک کی مضبوطی کا موجب ہوگا۔جب میں نے مجلس شوری کا قیام کیا تو شروع میں زیادہ لوگ نہیں آتے تھے مگر اب سینکڑوں ایسے آ جاتے ہیں جو مبر بھی نہیں ہوتے اور صرف کا رروائی سننے کیلئے آ جاتے ہیں۔اس طرح اگر خدام الاحمدیہ اپنے جلسہ کے لئے الگ دن مقرر کرے تو سینکڑوں نوجوان ان دنوں میں بھی فائدہ اُٹھانے کی غرض سے قادیان آجائیں گے اور سینکڑوں کو تحریک ہوگی کہ وہ ممبر بنیں۔میرا بچپن سے یہ تجربہ ہے کہ کوئی اچھا کام جب شروع کر دیا جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو جاتا ہے۔میری طبیعت میں بچپن سے ہی انتہائی احتیاط کی عادت ہے۔بعض لوگ تو اسے وہم کہتے ہیں مگر میں تو اسے توجہ ہی کہوں گا۔جب تک کوئی کام پوری طرح نہ ہو جائے مجھے اطمینان نہیں ہوتا۔یہ بالکل ایسی ہی کیفیت ہے کہ جب تک بچہ ماں کے پاس نہ ہوا سے تسلی نہیں ہوتی بلکہ وہ خیال کرتی ہے کہ شاید ٹھوکر لگ کر گر ہی نہ گیا ہو، ریل کے کسی حادثہ کا شکار نہ ہو گیا ہو، موٹر کے نیچے آ کر کچلا نہ گیا ہو ، وہ جو اب تک آیا نہیں تو ایسا نہ ہو کہ کسی مشکل میں پھنسا ہوا ہو۔اسی طرح مجھے بھی اطمینان نہیں ہوتا کہ کام ہو گیا ہوگا اور اس عادت کو میں چونکہ مفید سمجھتا ہوں اس لئے اسے دور کرنے کی کوشش