انوارالعلوم (جلد 15) — Page 291
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ثبوت ہے۔اگر کوئی کہے کہ جب آخر میں ایک جگہ آ کر شریعت کو تم نے بھی بند تسلیم کر لیا ہے تو پھر شروع میں ہی ایسا کیوں نہ کیا گیا اور کیوں شروع میں تو ارتقاء کا سلسلہ جاری رہا مگر اب وہ ارتقائی سلسلہ بند ہو گیا۔شریعت میں ارتقاء ختم ہو جانے کی وجہ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی روحانی عالم ظاہری عالم کے مشابہہ ہے اور شریعت میں ارتقاء۔آج اُسی طرح ختم ہو چکا ہے جس طرح انسانی جسم میں ارتقاء ختم ہو چکا ہے۔آخر انسانی جسم کے جس قدر حصے ہیں اب ان میں کونسا بنیادی فرق ہوتا ہے جس طرح آج ایک شخص پیدا ہوتا ہے، اسی طرح آج سے ہزار سال پہلے پیدا ہوا تھا اور جس طرح آج اس کے ہاتھ ، پاؤں، ناک، کان اور منہ ہوتے ہیں اسی طرح آج سے ہزار سال پہلے اس کے اعضاء ہوتے تھے پس جس طرح جسم انسانی میں بنیادی ارتقاء ختم ہو چکا ہے اسی طرح شریعت میں بھی پہلے جو ارتقاء کا سلسلہ جاری تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔ہاں ایک بات اور ہے اور وہ یہ کہ اب گوجسمانی ترقی بند ہو چکی ہے مگر دماغی ترقی بدستور جاری ہے اور اب وہ ارتقاء جو پہلے جسم میں ہوا کرتا تھا دماغ کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور انسان کی دماغی قابلیتوں میں ہر روز نیا سے نیا اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح گواب شریعت کا نزول بند ہو چکا ہے مگر اب وہی ارتقاء اس شریعت کے معارف کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور نئے سے نئے قرآنی اسرار دنیا پر منکشف ہوتے جارہے ہیں۔پس اس ارتقاء میں بھی روحانی عالم ظاہری عالم کے مشابہہ ہے۔وہاں بھی پہلے جسمانی بناوٹ میں ارتقاء ہوا پھر خالص دماغی ارتقاء رہ گیا۔اسی طرح شریعت میں بھی پہلے ظاہری و باطنی احکام میں ارتقاء ہو الیکن آخر میں ظاہری شریعت حد کمال کو پہنچ گئی اور اب صرف باطنی ارتقاء باقی ہے جس کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔پس ہم دونوں طرف سے ارتقاء کے قائل ہیں جسمانی طرف سے بھی اور روحانی طرف سے بھی۔اور ہم گو یہ ایمان رکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ شریعت اپنی تکمیل کو پہنچ گئی مگر ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اندر غیر محدود معارف و حقائق کے خزانے ہیں اور قرآن کریم کے معارف کا یہ باطنی ارتقاء بند نہیں ہوا بلکہ قیامت تک جاری ہے چنانچہ ہم اس کا نمونہ اپنی ذات میں دیکھ رہے ہیں کہ جو معارف قرآنیہ ہم پر کھلے ہیں وہ پہلے مفسروں پر نہیں کھلے۔خلاصہ یہ کہ اسلام نے آدم کے آثار قدیمہ اس رنگ میں ظاہر کئے ہیں کہ ان کی مثال کسی