انوارالعلوم (جلد 15) — Page 292
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) اور جگہ نہیں پائی جاتی۔اسی طرح حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے بارہ میں زبردست انکشاف اس نے کئے ہیں، مگر سر دست میں اس مضمون کو چھوڑ کر بعض دیگر انکشافات کو لیتا ہوں جو مختلف انبیاء کے بارہ میں قرآن کریم نے کئے ہیں۔حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق قرآنی انکشاف میں قرآنی آثار قدیمہ کے اُس کمرہ کو دیکھنے کے بعد عالم تخیل میں الہی آثار قدیمہ کے ایک اور کمرہ میں چلا گیا اور وہاں میں نے ایک اور عجیب نشان دیکھا۔مجھے دکھائی دیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہے اور آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام کہ وہ خود بھی نبی تھے اپنی قوم کو مخاطب ہوتے ہوئے کہ رہے ہیں۔يقوم انما فتنتُمْ به وان ربِّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَاطِيْعُوا امْرِي ا اے میری قوم! تم ایک ابتلاء میں ڈالے گئے ہو تم میری پیروی کرو اور جو کچھ میں کہتا ہوں اُس کی اطاعت کرو۔میں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ ہے جو اُس زمانہ میں پیدا ہوا۔پھر میں نے اپنے دل میں کہا آؤ میں معلوم تو کروں اُس وقت کیا فتنہ اُٹھا تھا۔مگر میں نے فیصلہ کیا کہ پہلے میں اُس کتاب کو دیکھوں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے زمانہ سے چلی آتی ہے اور اسے پڑھ کر معلوم کروں کہ اُس میں کیا لکھا ہے۔چنانچہ میں نے تو رات اُٹھائی اور اسے پڑھنا شروع کیا تو اس میں لکھا تھا: - اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑ سے اترنے میں دیری کرتا ہے تو وے ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اُسے کہا کہ اُٹھ ہمارے لئے معبود بنا کہ ہمارے آگے چلیں۔کیونکہ یہ مرد موسیٰ' جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا ہم نہیں جانتے کہ اُسے کیا ہوا ، ہارون نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جو تمہاری جو روؤں اور تمہارے بیٹوں اور تمہاری بیٹیوں کے کانوں میں ہیں تو ڑتوڑ کے مجھے پاس لاؤ ، چنانچہ سب لوگ سونے کے زیور جو اُن کے کانوں میں تھے تو ڑتوڑ کے ہارون کے پاس لائے اور اُس نے اُن کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اُس کی صورت حکا کی کے ہتھیار سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل ! یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا‘۵۲ گویا تو رات یہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہاڑ پر جانے کے بعد جب فتنہ پیدا