انوارالعلوم (جلد 15) — Page 290
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) اسلام ارتقاء کا قائل نہیں اور یہ کہ مسلمانوں نے مسئلہ ارتقاء کا رڈ کیا ہے حالانکہ اسلام ہی ہے جو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کے ارتقاء کا قائل ہے اس کے مقابلہ میں آرین خیالات الہام کے متعلق قطعا غیر ارتقائی ہیں۔چنانچہ آریہ مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے عالم میں ہی ایک مکمل الہامی کتاب بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لئے نازل فرما دی۔یہ عقیدہ بتاتا ہے کہ آریہ مذہب نہ صرف روحانی ارتقاء کا قائل نہیں بلکہ جسمانی ارتقاء کا بھی قائل نہیں کیونکہ اگر ابتداء میں انسان عقلی لحاظ سے کمزور تھا تو کامل الہامی کتاب کا نزول اس کے لئے بے فائدہ تھا اور اگر پہلے روز وہ اُسی طرح کامل انسان تھا جس طرح آج ہے تو معلوم ہوا کہ آرین عقائد کے رُو سے انسان کی پیدائش جسمانی ارتقاء کے ماتحت نہیں ہوئی۔غرض آرین خیالات اس بارہ میں قطعاً ا غیر ارتقائی ہیں اور وہ اسلام پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔اس کے مقابلہ میں سمیٹک (SEMITIC) یعنی سامی نسلیں روحانی ارتقاء کی قائل ہیں اور یہ عقیدہ رکھتی ہیں کہ پہلے حضرت آدم آئے ، پھر حضرت نوح آئے جنہوں نے کئی روحانی انکشافات کئے پھر حضرت ابرا ہیم آئے ، پھر حضرت موسی آئے اور ان سب نے کئی روحانی انکشاف کئے۔پس سامی نسلیں ہی ہیں جو ارتقاء کو تسلیم کرتی چلی آئی ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ سامی نسلوں پر ہی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ ارتقاء کی قائل نہیں اور جو اعتراض کر نیوالے ہیں ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ارتقاء کا انکار کرتے چلے آئے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے فرانسیسی درسی کتب میں قصہ لکھتے ہیں کہ ایک فرانسیسی لڑکا اپنے کسی دوست سے ملنے گیا۔اس کے پاس ایک لقو تھا اُس نے شوق سے اپنے دوست کو وہ لقو د یکھنے کو دیا جس نے لقو دیکھ کر اپنی جیب میں ڈال لیا اور سلام کہہ کر چل پڑا۔جب لھو والے لڑکے نے لھو واپس مانگا تو اُس نے کہا کہ لقو تو میرا ہے۔یہی ان کا حال ہے ہماری چیز لے کر اس پر اپنا قبضہ جما لیتے ہیں اور پھر بڑے زور سے قہقہہ لگا کر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔اِس جگہ اس امر کا ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گوسمیٹک نسلیں ارتقائی ترقی کی قائل ہیں لیکن قرآن کریم کے سوا دوسری سمیٹک تعلیم بھی اس بارہ میں ایک دھوکا کھا گئی ہے اور وہ یہ کہ اس نے جسمانی ارتقاء کا انکار کر دیا ہے حالانکہ روحانی ارتقاء بذات خود اس بات پر دال ہے کہ جسمانی ارتقاء بھی ہوا۔بہر حال صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے اپنے دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے اس مسئلہ کو بیان کیا ہے اور یہ اس کی برتری اور فوقیت کا ایک بڑا