انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 214

انوارالعلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے پڑھ کر یا گھوڑ دوڑ اور کرکٹ کے میچ کے نتیجہ پر نظر ڈال کر اخبار چھوڑ دیں گے۔یہی عورتوں کا حال ہے وہ بھی اخبار خریدتی ہیں اور سوسائٹی میں گپ شپ کیلئے کسی پارٹی کی خبر ہوئی تو وہ پڑھ لیتی ہیں یا کوئی شادی کی خبر ہوئی تو وہ دیکھ لیتی ہیں اسی طرح موت کی خبر پڑھ لیتی ہیں اور باقی اخبار کو دیکھتی بھی نہیں۔اس کے مقابلہ میں جو سیاسی آدمی ہیں وہ صرف سیاسی خبریں پڑھتے ہیں اور باقی اخبار چھوڑ دیتے ہیں اور اگر کوئی ایسا شخص ہو جسے اور کوئی ضروری کام نہ ہو تو وہ مضمون پڑھنے لگ جاتا ہے لیکن ہمارے لوگ اس بات کے عادی ہیں کہ ایک آنہ میں سے جب تک وہ پانچ پیسے کی خبریں نہ نکال لیں ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہمارے ہاں ایک جاہل شخص ہوا کرتا تھا۔حضرت خلیفہ اوّل اس کے بہت پیچھے پڑے رہتے تھے کہ تو نمازیں پڑھا کر اور آپ چاہتے تھے کہ اسے کچھ نہ کچھ دین کی واقفیت ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت پرانا خادم تھا اس کا وہ بھتیجا تھا۔ایک دفعہ وہ بازار سے آٹھ آنے کا کبھی لایا جو بلا کھا گیا اسے پتہ لگا تو اس پر جنون سوار ہو گیا اور وہ لٹھ لیکر پلے کے پیچھے پیچھے بھا گا یہاں تک کہ اس لٹھ سے اس نے پلے کو مارا اور چھری پیٹ چاک کر کے اس کی انتڑیوں سے گھی نچوڑ کر رکھ لیا۔کسی نے پوچھا کہ سنا ؤ گھی مل گیا وہ کہنے لگا۔آدھ سیر کی بجائے دس چھٹانک گھی نکلا ہے۔ہمارے یہ دوست بھی اخبارات سے دس چھٹانک گھی ہی نکالنا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ایک آنہ خرچ کر کے انہیں پانچ پیسے کی خبریں مل جایا کریں۔حالانکہ اگر کسی کو علم کی ایک بات بھی اخبار سے مل جاتی ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی قیمت اسے وصول ہوگئی بلکہ ایک بات کیا اگر کام کی اسے ایک سطر بھی مل جاتی ہے تو اسے سمجھنا چاہئے کہ ایک آنہ کی اس کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے۔پھر ریویو آف ریلیجنز وہ رسالہ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ خواہش ظاہر فرمائی تھی کہ اس کے دس ہزار خریدار ہوں۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم ایک دفعہ بھی اب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکے۔ہمارے جلسہ سالانہ پر ہی ہیں ہزار آدمی آ جاتے ہیں اور اگر سب دوست اس کی خریداری کی طرف توجہ کریں تو دس ہزار خریدار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کو ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کی توفیق نہیں ملی۔میں سمجھتا ہوں اگر غیر احمد یوں میں اس رسالہ کی کثرت سے اشاعت کی جائے تو دس ہزار خریدار یقیناً میسر آ سکتا