انوارالعلوم (جلد 15) — Page 213
انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ بانی سلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۳۸ء بر موقع جلسه سالانه قادیان) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج سب سے پہلے میں دوستوں کو سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے بعض اخبارات اور رسائل کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔سلسلہ احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے اخبارات میں سے سب سے مقدم الفضل ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت اخبارات اور لٹریچر کی اشاعت کی طرف اتنی متوجہ نہیں جتنا متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔اتنی وسیع جماعت میں جو سارے ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کی سینکڑوں انجمنیں ہیں صرف دو ہزار کے قریب الفضل کی خریداری ہے حالانکہ اتنی وسیع جماعت میں الفضل کی اشاعت کم از کم پانچ سات ہزار ہونی چاہئے۔ایک علمی اور مذہبی جماعت میں ”الفضل“ کی اس قدر کم خریداری بہت ہی افسوسناک ہے یورپ میں لوگوں کو اخبارات پڑھنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ ایک آدمی دو دو تین تین اخبارات ضرور خریدتا ہے حتی کہ غریب مزدور کے ہاتھ میں بھی ایک دو اخبار تو ضرور ہونگے مگر ہمارے آدمی اس وقت تک اخبار خریدنے کیلئے تیار نہیں ہوتے جب تک اس کا ہر مضمون ان کی دلچسپی کا موجب نہ ہو اور اگر کوئی خرید تا بھی ہے تو وہ پڑھ کر کہہ دیتا ہے کہ ایک دو مضمون ہی اچھے ہیں باقی اخبار میں تو کوئی کام کی بات ہی نہیں گویا ان کے نزدیک اخبار شروع سے لیکر آخر تک ان کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے۔حالانکہ ولایت میں میں نے دیکھا ہے ، لوگ اخبار خریدیں گے اور اس میں سے کوئی ایک خبر اپنے مذاق کی پڑھ لیں گے ، مثلا فلاں جگہ گھوڑ دوڑ ہے، لوگوں کو اتنے بجے پہنچ جانا چاہئے اور پھر یہ خبر پڑھتے ہی اخبار پھینک دیں گے۔اسی طرح جاتے جاتے ریل میں یا ٹرام میں ہر شخص اخبار خریدے گا اور پھر گھوڑ دوڑ یا کرکٹ کے میچ کی خبر