انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 215

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیادین نہیں لائے ہے کیونکہ اس رسالہ میں ایسے علمی مضامین شائع ہوتے ہیں جو عام طور پر دوسرے رسالوں کو میسر نہیں آتے۔انگریزی دان طبقہ کیلئے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اس رسالہ کو کثرت سے خریدے لیکن وہ دوست جو انگریزی نہیں جانتے وہ بھی اگر شادی بیاہ کے موقع پر ریویو آف ریلیجنز کی امداد کے لئے کچھ دے دیا کریں تو ان پر کچھ زیادہ بار نہیں ہوسکتا۔لوگ شادیوں کے موقع پر صدقہ و خیرات کیا کرتے ہیں اور جو لوگ صدقہ و خیرات نہیں کرتے وہ بھی میرا شیوں اور ڈوموں میں جب وہ مبارکباد دینے کیلئے آتے ہیں تو کئی روپے تقسیم کر دیتے ہیں۔ایسے موقعوں پر اگر بجائے میراثیوں اور ڈوموں کو روپیہ دینے کے تین چار انگریزوں یا علم دوست غیر احمدیوں کے نام سال یا چھ چھ ماہ کیلئے رسالہ جاری کرا دیا جائے تو جتنے عرصہ تک رسالہ جاری رہے گا اتنا عرصہ تک وہ ثواب حاصل کرتے رہیں گے۔اگر کسی کو زیادہ توفیق نہ ہو تو وہ تین ماہ کیلئے ہی رسالہ جاری کرا دے۔اگر اس کے تین چار روپوں سے تین چار مہینے مسلسل اسلام کی تعلیم لوگوں کے کانوں تک پہنچتی رہے تو وہ خود ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ روپیہ خرچ کرنا اس کیلئے کیسا مفید اور بابرکت ہوگا۔ڈوموں اور میراثیوں کی مدد کرنا تو اخلاقاً اور شرعاً کوئی پسندیدہ بات نہیں کیونکہ ایسا شخص اپنے روپے سے گانے اور ناچنے کو قائم رکھتا ہے لیکن ایسے رسالہ کی مدد کرنا جو ممالک غیر میں تبلیغ اسلام کا کام دے رہا ہو بہت بڑے ثواب کی بات ہے کیونکہ اس طرح خدا تعالیٰ کے دین کو مددملتی ہے۔اسی طرح ” البشری ایک نہایت ہی اہم رسالہ ہے اور وہ اس علاقہ سے نکلتا ہے جس کے ہم پر اس قدر عظیم الشان احسانات ہیں کہ اگر ہماری کھال اُدھیر کر بھی اس کے کپڑے بنا دیے جائیں تب بھی ان کے احسانات کا بدلہ ہم نہیں اتار سکتے۔یہ عربوں کی قربانی ہی تھی کہ جس نے ہمیں اسلام سے روشناس کرایا۔پس اگر ہم عرب کے لوگوں تک احمدیت پہنچا دیں تو یہ ہمارا اُن پر کوئی احسان نہیں ہوگا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی تمام جائدادیں عربوں کیلئے وقف کر دیں اور اپنے اموال ان کی خاطر قربان کر دیں تب بھی ان کا احسان نہیں اتر سکتا کیونکہ انہوں نے روحانی انعام سے ہمیں مالا مال کیا اور ہم جو کچھ دیں گے وہ جسمانی ہوگا لیکن اب خدا نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان کو اسی طرح روحانی انعامات سے بہرہ یاب کریں جس طرح انہوں نے ہمیں روحانی انعامات دیئے۔ان کے باپ دادوں نے ہم کو اسلام دیا تھا اب ہمارا فرض ہے کہ