انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 102

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی جب وہ چپ ہو جاتا ہے تو تم اُسے کوئی مٹھائی منگا کر نہیں دیتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایسا بھی مت کرو کیونکہ یہ جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔پھر کما کرگزارہ کرنا بھی اسلام کا جزو ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی و۔خدمت میں ایک دفعہ صحابہؓ آئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک شخص ۱۰۴ رات دن عبادت میں لگا ہوا ہے، فرمائیے وہ سب سے اچھا ہوا یا نہیں ؟ انبیاء کا بھی کیسا لطیف جواب ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا جب وہ رات دن عبادت میں لگا رہتا ہے تو کھاتا کہاں سے ہے۔انہوں نے عرض کیا لوگ دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا تو پھر جتنے اُسے کھانے پینے کیلئے دیتے ہیں وہ سب اس سے بہتر ہیں۔اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلس میں بیٹھے تھے کہ پاس سے ایک نوجوان گزرا جو نہایت لمبا مضبوط اور قوی الجثہ تھا اور بڑی تیزی سے اپنے کسی کام کیلئے دوڑتا ہوا جا رہا تھا۔بعض صحابہ نے اسے دیکھ کر تحقیر کے طور پر کوئی ایسا لفظ کہا جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جا تیرائر اہو اور کہا کہ اگر اس کی جوانی اللہ کے رستہ میں کام آتی تو کیسا اچھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا۔یہ کہنے کا کیا مطلب ہوا کہ تیرا بُرا ہو جو شخص اس لئے تیزی سے کوئی کام کرتا ہے کہ اس سے اپنی بیوی کو فائدہ پہنچائے ، تو وہ خدا کی ہی راہ میں کام کر رہا ہے اور جو شخص اس لئے دوڑتا اور پھرتی سے کام کرتا ہے کہ اپنے بچوں کے کھلانے پلانے کا بندوبست کرے، تو وہ خدا ہی کی راہ میں کام کر رہا ہے۔ہاں جو شخص اس لئے دوڑتا ہے کہ لوگ اُس کی تعریف کریں اور اُس کی طاقتوں کی داد دیں، تو وہ شیطان کی راہ میں کام کرتا ہے مگر حلال روزی کے لئے کوشش کرنا اور کما کر گزارہ کرنا تو سبیل اللہ میں شامل ہے۔۱۰۵ حکم اسی طرح اسلام نے جائدادوں کی حفاظت کے ۱۰۔جائداد کی حفاظت کا حکم متعلق خاص طور پر احکام دیئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی جائداد بیچ کر کھا جاتا ہے تو وہ کسی کام کا نہیں اور وہ اس قابل ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو برکت دے۔۱۰۶ یہ میں نے اسلامی احکام میں سے صرف چند باتیں پیش کی ہیں۔ورنہ اسلام کے احکام سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور ان تمام امور کے جاری کرنے کو سیاست کہتے ہیں اور یہ سیاست اسلام کا ضروری جزو ہے۔