انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 101

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ۶۔بنی نوع انسان کی خیر خواہی مانوع انسان کی خیر خواہی کے متعلق فرماتے ہیں عَلى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فَإِنْ لَّمْ يَجِدُ فَلْيَعْمَلْ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَۀ کہ ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے اور اگر کوئی کہے کہ میں تو غریب ہوں میں کہاں سے چندہ دوں۔جیسے بعض لوگوں سے جب چندہ مانگا جاتا ہے تو و ہیں ہم سے کیا چندہ لینا ہے ہمیں تو تم چندہ دو کیونکہ ہم غریب ہیں۔تو فرمایا فلیعمل بیدہ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ قومی کام اپنے ہاتھ سے کرے کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ بھی نہیں ہیں۔وہ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس روپے نہیں تو فرمایا اچھا اگر روپے نہیں تو اپنے ہاتھ سے کام کرو۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ صرف مالداروں پر ہی فرض نہیں کیا بلکہ غرباء کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے اور فرمایا ہے کہ صدقہ دینا ہر انسان کا کام ہے جو مال دے سکتا ہے وہ مال دے اور جو مال نہیں دے سکتا وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے۔اسی لئے تحریک جدید میں میں نے بتایا ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرو اور اگر کوئی ہاتھ بھی نہیں ہلا سکتا تو صرف دعا کرتا ر ہے کیونکہ اس صورت میں یہی اس کا کام سمجھا جائے گا۔ے۔صفائی صاف رہنے کے متعلق فرماتے ہیں النظافة من الایمان 'ے کہ صفائی رکھنا۔صداقت ایمان کا جزو ہے۔پھر فرماتے ہیں۔آخرِجُوا مِنْدِيلَ الْغَمَرِ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَإِنَّهُ مَبِيْتُ الخَبِيثِ وَ مَجْلِسُهُ ١٢ کہ وہ دستر خوان جس کو چکنائی لگ گئی ہو اسے اپنے گھروں سے نکال کر باہر پھینک دو کیونکہ وہ خبیث چیز ہے اور گندگی کا مقام ہے یعنی اس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں ، کیڑے آتے ہیں اور بیماریاں ترقی پکڑتی ہیں۔مگر تعجب ہے کہ آج کل لوگ نیکی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ کپڑے کو اس وقت تک نہ دھویا جائے جب تک کہ وہ پھٹ نہ جائے۔صداقت کے متعلق فرماتے ہیں ایسا کم والكذب فان الكذب لَا يَصْلُحُ فِي الجِدِ وَلَا بِالْهَزْلِ وَلَا يَعِدِ الرَّجُلُ صَبِيَّةَ ثُمَّ لَا يَفِى لَهُ ١٣ کہ اے لوگو تم جھوٹ سے بچو اور یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ جھوٹ نہ ہنسی میں جائز ہے نہ سنجیدگی میں۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا محض ہنسی کی ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی جھوٹ قرار دیتے ہیں بلکہ آپ اس سے بھی زیادہ احتیاط سے کام لینے کی ہدایت دیتے اور فرماتے ہیں۔لا يَعِدِ الرَّجُلُ صَبِيَّةَ ثُمَّ لَا يَفِی لَۀ کہ تم اپنے بچوں سے بھی جھوٹا وعدہ نہ کرو۔تم بعض دفعہ بچے سے جب وہ رورہا ہو کہتے ہو ہم تجھے ابھی مٹھائی منگا دیں گے پھر