انوارالعلوم (جلد 15) — Page 103
انوار العلوم جلد ۱۵ تمدن اسلامی کے قیام کے ذرائع انقلاب حقیقی مگر یہ فرض ادا نہیں ہو سکتا جب تک مندرجہ ذیل طریقے اختیار نہ کئے جائیں مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ: اول جماعت کے خیالات کو بدلا جائے اور اُسے بتلایا ا۔خیالات میں تبدیلی جائے کہ مؤمن ہونے اور احمدی ہونے کے یہ معنی نہیں کہ تم نے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہا اور چھٹی ہوئی۔یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور معاملہ ختم ہو گیا بلکہ ایمان کی تکمیل کیلئے سینکڑوں باتوں کی ضرورت ہے جو تمدن، معاشرت، اقتصاد اور سیاست وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔جب تک وہ تمام کڑیاں مضبوط نہ ہوں کو ئی شخص حقیقی معنوں میں مومن نہیں کہلا سکتا اور یہ علماء کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات کو بدلیں اور ان کو بتائیں کہ ان کے سامنے کتنا اہم کام ہے۔مگر ہمارے علماء کی یہ حالت ہے کہ وہ باہر جاتے ہیں تو صرف وفات مسیح اور ختم نبوت پر لیکچر دے کر آ جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔گویا ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جو ایک محل بنانے کیلئے نکلے مگر ایک اینٹ گھڑ کر واپس آ جائے اور سمجھ لے کہ اُس کا کام ختم ہو گیا۔پس یہ علماء کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ انہیں احیائے سنت اور احیائے شریعت کیلئے ایک موت قبول کرنی پڑے گی اور اس کے لئے انہیں چاہئے کہ وہ تیار ہو جائیں۔۲۔کامل اطاعت دوسرے اس کام کیلئے جماعت کے دلوں میں یہ عزم پیدا کرنا ضروری ہے کہ ہم پوری اطاعت کریں گے خواہ ہمیں کتنا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے کیونکہ یہ چیزیں نظام سے تعلق رکھتی ہیں اور اگر ایک بھی اس نظام سے نکل جائے تو تمام کام درہم برہم ہو جاتا ہے۔مثلاً ہماری شریعت ایک حکم یہ دیتی ہے کہ فلاں فلاں سٹینڈرڈ(STANDARD) کی اگر کوئی چیز ہو تو فروخت کی جائے ، ناقص اور ادنی مال فروخت نہ کیا جائے۔اب اگر ہم اس حکم کی دُکانداروں سے تعمیل کرائیں اور جو اس حکم کو نہ مانے ، اس کے متعلق ہم یہ حکم دے دیں کہ جماعت اس سے سودا نہ خریدے تو ایسی حالت میں اگر بعض لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں جو کہیں کہ یہ لوگوں کا رزق مار رہے ہیں ، تو اسلام کا یہ حکم دنیا میں کس طرح قائم ہو سکتا ہے اور اگر ہم اس طرح ایک ایک کر کے لوگوں کو احکام کی اطاعت سے آزاد