انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 511

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر جب کوئی کام ہو تو اپنا ہاتھ چھڑا کر کام میں مشغول ہو جانا چاہئے کیونکہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جب اس بچے نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور تھوڑی دیر تک پکڑے رکھا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ کر الگ کر لیا۔آج یہ بات معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن ممکن ہے کسی زمانہ میں لوگ سمجھنے لگ جائیں کہ بزرگ وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ اگر کوئی پکڑے تو پھر وہ چھڑائے نہیں بلکہ جب تک دوسرا اپنے ہاتھ میں اس کا ہاتھ لئے رکھے وہ خاموش کھڑا رہے۔ایسے زمانہ میں یہ روایت لوگوں کے خیالات کی تردید کر سکتی ہے اور بتا سکتی ہے کہ یہ لغو کام ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی کام کرنا ہو تو محبت سے دوسرے کا ہاتھ الگ کر دینا چاہئے تو اس قسم کے کئی مسائل ہیں جو ان روایات سے پیدا ہو سکتے ہیں۔آج ہم ان باتوں کی اہمیت نہیں سمجھتے مگر جب احمدی فقہ، احمدی تصوف اور احمدی فلسفہ بنے گا تو اُس وقت یہ معمولی نظر آنے والی باتیں اہم حوالے قرار پائیں گی اور بڑے بڑے فلسفی جب ان واقعات کو پڑھیں گے تو کود پڑیں گے اور کہیں گے خدا اس روایت کو بیان کرنے والے کو جزائے خیر دے کہ اس نے ہماری ایک پیچیدہ گتھی سلجھا دی۔یہ ایسا ہی واقعہ ہے جیسے اب ہم حدیثوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سجدہ میں گئے تو حضرت حسنؓ جو اُس وقت چھوٹے بچے تھے آپ کی گردن پر لاتیں لٹکا کر بیٹھ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت تک سر نہ اُٹھایا جب تک کہ وہ خود بخود الگ نہ ہو گئے۔ہے اب اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرے تو ممکن ہے بعض لوگ اُسے بے دین قرار دے دیں اور کہیں کہ اسے خدا کی عبادت کا خیال نہیں اپنے بچے کے احساسات کا خیال ہے ؟ مگر ایسا شخص جب بھی یہ واقعہ پڑھے گا اُسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کا خیال غلط ہے اور وہ چُپ کر جائے گا۔گو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو پھر بھی خاموش نہ رہ سکیں۔چنانچہ ایک پٹھان کے متعلق کہتے ہیں کہ اُس نے قدوری میں یہ پڑھا کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اس کے بعد وہ حدیث پڑھنے لگا تو اس میں ایک حدیث یہ آ گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جب نماز پڑھی تو اپنے ایک بچہ کو اٹھا لیا۔جب رکوع اور سجدہ میں جاتے تو اُسے اُتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اُٹھا لیتے۔ہے وہ یہ حدیث پڑھتے ہی کہنے لگا خوہ! محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔گویا شریعت بنانے والا کنز یا قدوری کا مصنف تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے تو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو باوجود واضح مسئلہ کے اُسے ماننے سے انکار کر دیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے