انوارالعلوم (جلد 14) — Page 510
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ہوتے تھے جمعہ پڑھنے چلے جاتے تھے۔میں نے جب آپ سے بخاری پڑھنی شروع کی تو ایک دن جب کہ میں بخاری لئے آپ کی طرف جارہا تھا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھ لیا اور فر مایا کہاں جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔آپ نے فرمایا ایک سوال میری طرف سے بھی مولوی صاحب سے کر دینا اور پوچھنا کہ کہیں بخاری میں یہ بھی آیا ہے کہ جمعہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور نئے کپڑے پہنتے تھے ؟ لیکن اب ہمارے زمانہ میں صوفیت کے یہ معنی کر لئے گئے ہیں کہ انسان گندہ رہے گویا اگر اُس کا وزن بنایا جائے تو یوں بنے گا کہ جتنا گندہ اُتنا ہی خدا کا بندہ۔حالانکہ انسان جتنا گندہ ہواُتنا ہی خدا تعالیٰ سے دُور ہوتا ہے اسی لئے ہماری شریعت نے بہت سے مواقع پر غسل واجب کیا ہے اور خوشبو لگانے کی ہدایت کی ہے اور بد بودار چیزیں کھا کر مجالس میں آنے کی ممانعت کی ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے دنیا فائدہ اُٹھاتی چلی آئی اور اٹھاتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سے بھی دنیا فائدہ اُٹھائے گی اور ہمارا فرض ہے کہ ہم انکو جمع کر دیں۔ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صحابی ہوں مگر مجھے سوائے اس کے اور کوئی بات یاد نہیں کہ ایک دن جبکہ میں چھوٹا سا تھا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ سے مصافحہ کیا اور تھوڑی دیر تک میں آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے برابر کھڑا رہا کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہاتھ چھڑا کر کسی اور کام میں مشغول ہو گئے۔اب بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر بعد میں انہی چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے اہم نتائج اخذ کئے جائیں گے۔مثلاً یہی واقعہ لے لو اس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوگی کہ چھوٹے بچوں کو بھی بزرگوں کی مجالس میں لانا چاہئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لوگ اپنے بچوں کو بھی آپ کی مجلس میں لاتے۔ممکن ہے آئندہ کسی زمانہ میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں جو کہیں کہ بچوں کو بزرگوں کی مجالس میں لانے کا کیا فائدہ ہے ان مجالس میں بڑوں کو شامل ہونا چاہئے کیونکہ جب فلسفہ آتا ہے تو ایسی بہت سی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ کہنا شروع کر دیا جاتا ہے کہ بچوں نے کیا کرنا ہے؟ پس جب بھی ایسا خیال پیدا ہوگا یہ روایت ان کے خیال کو باطل کر دے گی اور پھر اس کی مزید تائید اس طرح ہو جائے گی کہ حدیثوں میں لکھا ہوا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی صحابہ اپنے بچوں کو لاتے تھے۔اسی طرح اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ