انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 512

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ہیں۔پس اس بات کی ہرگز پر وا نہیں کرنی چاہئے کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جس بات کا علم ہے وہ چھوٹی سی ہے بلکہ خواہ کس قدر چھوٹی بات ہو بتا دینی چاہئے۔خواہ اتنی ہی بات ہو کہ میں نے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلتے چلتے گھاس پر بیٹھ گئے کیونکہ ان باتوں سے بھی بعد میں اہم نتائج اخذ کئے جائیں گے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بعض دوستوں سمیت باغ میں گئے اور آپ نے فرمایا آؤ بے دانہ کھا ئیں۔چنانچہ بعض دوستوں نے چادر بچھائی اور آپ نے درخت جھڑوائے اور پھر سب ایک جگہ بیٹھ گئے اور انہوں نے بے دانہ کھایا۔اب کئی لوگ بعد میں ایسے آئیں گے جو کہیں گے کہ نیکی اور تصوف یہی ہے کہ طیب چیزیں نہ کھائی جائیں۔ایسے آدمیوں کو ہم بتا سکتے ہیں کہ تمہاری یہ بات بالکل غلط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو بے دانہ جھڑوا کر کھایا تھا۔یا بعد میں جب بڑے بڑے متکبر حاکم آئیں گے اور وہ دوسروں کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کچھ کھانے میں ہتک محسوس کریں گے تو ان کے سامنے ہم یہ پیش کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو بے تکلفی کے ساتھ اپنے دوستوں سے مل کر کھایا پیا کرتے تھے تم کون ہو جو اس میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہو۔تو بعض باتیں گو چھوٹی ہوتی ہیں مگر ان سے آئندہ زمانوں میں بڑے اہم مذہبی سیاسی اور تمدنی مسائل حل ہوتے ہیں۔پس جن دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شکل دیکھنے یا آپ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا ہو انہیں چاہئے کہ وہ ہر بات خواہ چھوٹی ہو یا بڑی لکھ کر محفوظ کر دیں۔مثلاً اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لباس کی طر زیاد ہے تو وہ بھی لکھ کر بھیج دے اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ اگر آئندہ کسی زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو کہیں کہ ننگے سر رہنا چاہئے تو ان کے خیالات کا ازالہ ہو سکے اس میں کوئی مجبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں موجود ہیں اور آپ ہی شارع نبی ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قریب کے مامور کی باتیں شارع نبی کی باتوں کی مُصدق سمجھی جاتی ہیں۔آجکل یہ کہا جاتا ہے کہ جن فقہ کی باتوں پر امام ابوحنیفہ نے عمل کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہیں۔اسی طرح آئندہ زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جن حدیثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل سے سچا قرار دیا ہے انہی کو لوگ کچی حدیثیں سمجھیں گے اور جن حدیثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضعی قرار دیا ہے ان حدیثوں کو لوگ بھی جھوٹا سمجھیں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ باتیں بھی ایسی ہی اہم ہیں جیسے حدیثیں کیونکہ یہ باتیں حدیثوں کا صدق یا کذب معلوم کرنے کا ایک معیار