انوارالعلوم (جلد 14) — Page 485
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض اصل مقصد ہونا چاہئے تھا۔وہ طاقت معمولی نہیں، وہ بہت بڑی طاقت ہے، وہ سرمایہ دار بھی ہے، وہ کثیر التعداد بھی ہے، وہ عقل بھی رکھتی ہے ، وہ کسی ایک قوم میں محصور نہیں بلکہ اُس کی فوجیں مختلف قوموں اور گروہوں سے لی گئی ہیں۔اس نے جب ایک محاذ سے شکست کھائی تو دوسرے محاذ سے حملہ آور ہوئی ہے، میں اس کے حملہ کو بڑھتا ہوا دیکھتا ہوں ، میں اس کے لشکر کو اندھیرے میں حرکت کرتے ہوئے پاتا ہوں جو شکروں کی روشنی میں شکست کھا چکا تھا اب رات کی تاریکی میں شب خون کی تیاری میں ہے۔میرے پاس اس لشکر کے مقابلہ کا ایک ہی ہتھیا رتھا اور وہ یہ کہ میں تمہارے دلوں میں تقویٰ پیدا کر دیتا ، میں ایمان کی روح تم میں پھونک دیتا، میں قرآنی دلائل کی تلوار تمہارے ہاتھ میں دیتا ، میں قربانی اور ایثار کی زرہ تم کو پہنا دیتا اور پھر دشمن کے سامنے تم کو کھڑا کر کے خدا تعالیٰ کے حضور میں گر جاتا یہ کہتے ہوئے کہ اے خدا! تیرا نور ان چند وجودوں میں چمک رہا ہے اگر آج دہریت، الحاد اور شرک کا لشکر اِن پر غالب آ گیا تو اے میرے پیارے! تیرا نام دنیا میں کون لے گا۔میں اسی طرح گریہ وزاری اور دعاؤں سے خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑ کا تا یہاں تک کہ وہ اپنے روحانی لشکر کی کمان میرے ہاتھ سے لے کر خود اپنے ہاتھ میں لے لیتا پھر کون تھا جو خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر سکتا مگر آہ! میرے لئے نئی مجبوریاں پیدا ہو گئیں اور نئے کام نکل آئے جوا گر نہ نکلتے تو اچھا ہوتا۔تو بہ کروا در سنبھلو اے دوستو ! اب بھی وقت ہے، تو بہ کرو اور سنبھلو۔تو بہ کرو اور سنبھلو پھر تو بہ کرو اور سنبھلو۔اور جو کام خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کو کرنے دو کہ وہ اُسی کو سزاوار ہے۔اور جو کام اس نے تمہارے سپرد کیا ہے اسے پورا کرنے کی فکر میں لگے رہو کہ وہ بھی بہت بڑا کام ہے اسی میں نیکی اور اسی میں تمہاری فلاح ہے۔اگر تم ایسا کرو، اگر تم دعاؤں اور توبہ سے میری مدد کرو، تو شاید خدا تعالیٰ کی رحمت جلد ہی ہم کو ڈھانپ لے اور وہ اُس دیر کو چھوٹا کر دے جو ہم نے خود پیدا کر لی ہے۔اور شاید ہماری آنکھیں اپنے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی فتح کو جلد ہی دیکھ لیں جس کے دیکھنے کیلئے وہ ترس رہی ہیں اور دل بے تاب ہے اور بہت ہی بے تاب ہے وَاخِرُ دَعُونَا آن الْحِمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ( الفضل ۲۰۔اگست ۱۹۳۷ ء ) ا، مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۱۵۲ - المكتب الاسلامي بيروت (مفهوماً)