انوارالعلوم (جلد 14) — Page 484
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض ملک میں جرمنی کی حیات کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے لیکن سو فیصدی لوگ اس کی بھی نہیں مانتے۔وہ مسولینی جس نے ایک مُردہ قوم میں جان ڈالدی ہے سو فیصدی کی اطاعت کا وہ بھی دعویدار نہیں ہوسکتا ، مصطفی کمال جس نے ترکوں کی گلی سڑی ہڈیوں میں روح پھونک دی ہے، وہ بھی سو فیصدی اطاعت کا اعلان نہیں کر سکتا مگر کیا ان میں سے کوئی خلیفہ ہے، وہ سب دُنیوی لیڈر ہیں۔خدا تعالیٰ کی آواز ان کے ساتھ نہیں ، ان کی بیعت لوگ نہیں کرتے اور نہ ان کی بیعت لیتے وقت بیعت لینے والے کے ہاتھ کو خدا تعالیٰ کا ہاتھ کہا جا سکتا ہے۔پس اگر ان کی تعلیم کی کوئی نافرمانی کر دے تو ان کیلئے افسوس کا موقع نہیں لیکن مجھے تو خلیفہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہونے کا دعویٰ ہے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرنے والی جماعت کو خدا تعالیٰ کی جماعت ہونے کا دعوئی ہے۔ہمیں تو ایسا نمونہ دکھانا چاہئے جس کی مثال دنیا کے لوگوں میں بالکل ہی نہ ملتی ہو۔پس اے دوستو! بیدار ہوا اور اپنے مقام کو سمجھو اور اُس اطاعت کا نمونہ دکھاؤ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر کسی اور جگہ پر نہ ملتی ہو اور کم سے کم آئندہ کیلئے کوشش کرو کہ سو میں سے سو ہی کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھا ئیں اور اُس ڈھال سے باہر کسی کا جسم نہ ہو جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری حفاظت کیلئے مقرر کیا ہے اور اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ پر ایسا عمل کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح تم سے خوش ہو جائے۔دیکھو! ہم مظلوم تھے اور اب بھی مظلوم ہیں، لیکن بچوں کی نظروں میں اب معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے۔ہم میں سے ایک کی غلطی نے (اللہ تعالیٰ اُسے تو بہ کی توفیق دے کر اپنی بخشش کی چادر میں چھپالے) ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا دیا ہے انسانی فطرت ظلم کے خلاف ہے۔ایک عادی ظالم بھی جب کسی دوسرے کے ظلم کو سنتا ہے تو وہ اسے نا پسند کرتا ہے حالانکہ وہ خود بھی ظالم ہوتا ہے۔پس اس واقعہ نے میری اُس اپیل کو جو انسانی شرافت اور فطرت صحیحہ سے کرنے والا تھا، ایک حد تک بے اثر کر دیا ہے۔آج میں اکیلا سب دشمنانِ اسلام کے مقابل پر کھڑا ہوں۔اگر وہ قلیل گروہ جو میرے ساتھ ہے، وہ بھی میرے ساتھ پوری طرح تعاون نہ کرے تو بتاؤ کہ مجھے کس قدر کوفت اور تکلیف اُٹھانی پڑے گی ؟ میں کیا کرتا مصری کیا ہیں صرف چند آدمی ،مگر فتنہ اُن کا تو نہیں فتنہ تو ان کا ہے جو ان کے پیچھے ہیں اور انہی لوگوں کی طاقت کو توڑنا جو ان کے پیچھے ہیں ہمارا