انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 480

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض اللہ تعالیٰ کی جماعت کو بدنام کر کے خدا کے غضب کو بھڑ کانے والے ہونگے۔دیکھو کس لطیف پیرایہ میں فرمانبرداری کی ضرورت اور پھر اس کے بعض خطرات کو بیان کیا ہے جن کو مد نظر ر کھے بغیر نظام کبھی کا میاب نہیں ہوسکتا۔ہماری جماعت کے وہ دوست جو فکر کرنے کے عادی ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارا گزشتہ تجربہ ان آیات کے مضمون کی صداقت کا کیسا شاہد ہے۔جب بھی ہماری جماعت نے کامل اطاعت کا نمونہ دکھایا ہے ، تھوڑے سے سامان سے عظیم الشان نتائج پیدا ہوئے ہیں اور جب بھی ہم میں کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے، ساری جماعت کی بدنامی ہوئی ہے حالانکہ دوسری اقوام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ان کا کوئی فرد غلطی کرتا ہے تو وہ قوم کی طرف منسوب نہیں ہوتی جس کی یہی وجہ ہے کہ وہ جماعتیں منظم نہیں ہیں اس لئے جہاں وہ تنظیم کے فوائد سے محروم ہیں وہاں اس کے خطرات سے بھی وہ محفوظ ہیں۔مجھے افسوس ہماری مثال بتیس دانتوں کے درمیان زبان کی سی ہے ہے کہ اس قسم ہے کے واقعات خواہ کتنے ہی قلیل ہوں ان سے ہمارے کام کو بہت نقصان پہنچا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری جماعت مصائب اور مخالفت کے اوقات میں جس صبر کا نمونہ دکھاتی ہے اس کی مثال دوسری اقوام میں نہیں پائی جاتی لیکن ہماری مثال بیتیس دانتوں کے اندر رہنے والی زبان کی سی ہے جو بات دوسرے لوگوں میں عیب نہیں سمجھی جاتی ہم میں عیب سمجھی جاتی ہے اور لوگ ہم سے ایسے اخلاق کا مطالبہ کرتے ہیں جن کا دوسرے سے مطالبہ نہیں کرتے۔اور میں سمجھتا ہوں ہمارے دعووں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا یہ مطالبہ درست بھی ہے۔پس جب کبھی ہمارے کسی آدمی سے غلطی کی وجہ سے کوئی ابتلاء آئے وہ جماعت کو ہلا دینے والا ہوتا ہے۔میں مثنوی رومی کے اس قول کا بڑے وثوق موجودہ فتنہ کے فوائد میں التوا سے قائل ہوں کہ : ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند اور کئی دفعہ اس سے متعلق اپنے خطبات میں بیان بھی کر چکا ہوں۔موجودہ فتنہ بھی درحقیقت ایک رحمت الہی تھا اگر یہ واقعہ نہ ہو جاتا۔اس واقعہ نے اُن فوائد کو جو اس فتنہ سے پہنچنے والے