انوارالعلوم (جلد 14) — Page 479
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض سے یا اس کے رسول کی طرف سے آواز آئے اُدھر تم لَبَّیک لَبَّیک کرتے ہوئے دوڑ پڑو۔اور یاد رکھو کہ برکات اور فضلوں کے نزول کے بھی خاص اوقات ہوتے ہیں جو شخص ان اوقات سے فائدہ نہیں اُٹھاتا ، آخر اس کا دل بھی مُردہ ہو جاتا ہے اور وہ بھی منکروں کی طرح خدا اور اُس کے رسول کی آواز کے سننے سے محروم رہ جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو شخص بشاشت اور اخلاص سے اس کی اور اسکے رسول کی آواز کو نہیں سنتا اور اپنے نفس کو اُن کے حکم سنے کیلئے آمادہ نہیں کرتا اور انانیت اور کبر کے دوز ہر اس میں موجود ہوتے ہیں اور سفلی زندگی کا کوئی حصہ اس میں باقی رہ جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے دل کو سخت کر دیتا ہے۔پھر اگر ایسے شخص کا دماغ سچائی کو قبول بھی کرلے اور اُس کی فکر اور عقل اسے صحیح بھی تسلیم کر لے تب بھی اس کا دل چونکہ مُردہ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے دماغ اور دل کے درمیان میں ایک دیوار حائل کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے دل، دماغ کا حکم ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور گو عقل ایسے انسان کی تسلی پا چکی ہوتی ہے مگر اُس کا قلب عمل کرنے سے دریغ کرتا ہے اور نفس اطاعت الہی میں لذت نہیں پاتا اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص ایمان کے مرتبہ سے محروم رہ جاتا ہے اور وہ زندگی جو مومنوں کیلئے مقدر ہے اس شخص کو حاصل نہیں ہوتی۔اپنے بھائیوں کے افعال کی نگرانی اس کے بعد اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب ہم تم سے ایسی اطاعت اور فرمانبرداری کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنے نفس کو کھول کر گویا قوم کے وجود کا حصہ ہو جائے تو اس کے جہاں فوائد ہونگے وہاں نقصان بھی ہونگے۔یعنی ایسی منتظم قوم کا اگر ایک فرد کوئی غلطی کرے گا تو لوگ اسے ساری قوم کی طرف منسوب کریں گے کیونکہ ان کے نظام کو دیکھتے ہوئے لوگ اِس امر کے سمجھنے سے قاصر ہوں گے کہ کسی شخص نے بغیر باقی قوم کے مشورہ کے کوئی کام کیا ہو، پس فرماتا ہے کہ یہ ایک سخت خطرہ ہے جو نظام کے ساتھ لاحق ہوتا ہے۔اس میں ہزاروں خوبیاں بھی ہیں اور بعض خطرات بھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب ایک منظم قوم کا کوئی فرد کوئی غلطی کرتا ہے تو لوگ اسے ساری قوم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور اس کو انفرادی فعل قرار دینے سے انکار کر دیتے ہیں اس لئے مومنوں کو چاہئے کہ اپنے بھائیوں کے افعال کی نگرانی کریں اور افراد کو بھی چاہئے کہ جب کوئی کام کرنے لگیں، اس خطرہ کو سامنے رکھیں کہ ہمارا کام ساری قوم کی طرف منسوب ہوگا اور ہم اپنی غلطی سے جماعت کو بدنام کر دیں گے اور اس طرح