انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 449

انوار العلوم جلد ۱۴ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو پوچھا کیا بات ہے کہنے لگے۔ایک صاحب غلام مصطفیٰ صاحب نے سنٹرل جیل لاہور میں مجھ سے ایسا عمدہ سلوک کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ احمدی ہیں تو میں نے کہا کہ میں مرزا صاحب سے مل کر ان کی تعریف کروں گا اور ایسے آدمی کے متعلق خاص توجہ رکھنے کیلئے کہوں گا۔ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ نیکی کے طور پر ان سے کون سلوک کرتا ہے اور ڈر کی وجہ سے کون۔جو ڈر کی وجہ سے کرتے ہیں ان کے خلاف وہ شور مچاتے ہیں۔غرض ایک کانگرسی کا جیل خانہ کے متعلق نقطہ نگاہ اور ہے اور ایک انگریز کا اور۔وہ تو سمجھتا ہے کہ قید یہی ہے کہ بیکار بیٹھا۔رہے، پانچ وقت ناشتہ کرے اور نوکر سے خدمت لے۔ایک انگریز قید کا یہی نقشہ کھینچے گا۔لیکن ایک احمدی کا نقطۂ نگاہ بالکل اور ہو گا اور اسے بھی وہ نقطۂ نگاہ پیش کرنا چاہئے۔بہر حال مولوی صاحب کا جیل خانہ میں جانا اسے ہم پیش خیمہ نہیں کہتے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آ بیل مجھے مار اور یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی خواہشات سے منع فرمایا ہے اس لئے ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ احمدی جیل خانہ میں جائیں لیکن یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر موقع ملے تو ڈرنا نہیں چاہئے اور میں سمجھتا ہوں کہ نقش ثانی بہتر ہوگا نقش اول سے۔جوں جوں اس کے موقعے پیش آتے رہیں بلا اپنی کسی خواہش اور تمنا کے جو کوئی مصیبت میں گھر جائے اسے بجائے بُزدلی دکھانے کے ایسی بہادری دکھانی چاہئے کہ لوگ سمجھ لیں احمدی بُز دل نہیں ہوتے۔ایسے ہی موقعے جرات اور بہادری دکھانے کے ہوتے ہیں یا پھر مصیبت کے وقت دوسروں کے کام آنا۔احمدیوں کو چاہئے دوسروں سے ہمدردی کریں، ان کی تکلیفوں کے وقت امداد کریں، آگ لگنے پر آگ بجھا ئیں، کسی لڑائی کے موقع پر لڑائی کو روکنے کیلئے اپنی خدمات پیش کریں، نیشنل لیگ کور کی یہی غرض تھی مگر وہ ابھی تک لیفٹ رائٹ سے ہی باہر نہیں نکلی۔غرض تو یہ تھی کہ احمدی نوجوان بہادری اور ایثار سے کام کریں اور ثابت کر دیں کہ احمدی بر دل نہیں ہوتے اور بنی نوع انسان کے خادم ہیں۔دوسرے لوگ اپنی بہادری کا یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کہ کسی کو لٹھ مارا ، کسی کو چھری سے قتل کر دیا، مگر ہمارا یہ کام ہے کہ ہم غربیوں ، بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت کریں ورنہ لیفٹ رائٹ سے کیا بنتا ہے۔مجھے ایک لطیفہ یاد آیا۔ایک دفعہ ایک شخص فقیرانہ طرز کا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کشتی میں بیٹھ کر اگر انسان دریا کو عبور کرنا چاہے تو کنارے پر پہنچ کر اُسے کشتی میں بیٹھے رہنا چاہئے یا اُتر جانا چاہئے۔میں نے کہا یہ بات دریا پر منحصر ہے اگر دریا کا کنارہ ہے تو اُسے کنارے پر پہنچ کر اُتر