انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 448

انوار العلوم جلد ۱۴ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو مولوی صاحب کو ساری باتوں کا صحیح طور پر علم نہیں ہوسکتا کیونکہ بہت سی باتیں ان کی نظر سے پوشیدہ رہیں۔تاہم وہ جو کچھ بیان کریں گے اس میں ان کا نقطہ نگاہ اور ہو گا۔کہتے ہیں کسی ملا نے لوگوں کو نصیحت کی کہ نمازیں پڑھا کرو ورنہ جہنم میں جاؤ گے جہاں خطرناک سانپ ہوتے ہیں، پیپ اور خون کھانے کو ملتا ہے آگ جلتی ہے۔غرض جو کچھ قرآن و حدیث یا پرانی روایات میں بیان کیا گیا ہے اُس نے سنایا اس پر ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔اس ملا کو جہنم کا کچھ پتہ نہیں یہ سب جھوٹ بول رہا ہے۔لوگوں نے اسے کہا پھر تم بتاؤ جہنم میں کیا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا۔سنو ! جب قبر میں مُردے کو لٹا دیا جاتا ہے تو دو آدمی ہوتے ہیں جن کے پاس بھاری گٹھڑیاں ہوتی ہیں وہ اسے قبر سے نکالتے ہیں اور گٹھڑیاں اُس کے سر پر رکھ کر دو چار تھپڑ لگاتے ہیں اور دُور دراز لے جاتے ہیں۔صبح کو گٹھڑیاں اُتر وا لیتے ہیں اور ایک روٹی اور پیاز دیکر وہاں سے نکال دیتے ہیں۔اصل بات یہ تھی کہ اُسے وہم ہو گیا تھا کہ میں مر رہا ہوں۔آخر ایک دن اُس نے کہا کہ میں مر گیا ہوں، مجھے غسل دو لوگوں نے اُسے غسل دے کر قبر میں لٹا دیا۔جب اُس پر مٹی ڈالنے لگے تو اس نے کہا میرا دم رکھتا ہے سانس لینے کیلئے جگہ چھوڑ دو۔لوگ اُسے اسی حالت میں چھوڑ کر آ گئے۔رات کو وہ دیکھتا رہا کہ فرشتے حساب لینے کب آتے ہیں، اتفاقا دو چور مال لے کر آئے انہوں نے اُسے قبر سے نکال کر دو چار چپیڑیں لگائیں اور گٹھڑیاں اُٹھوا کر لے گئے صبح کو روٹی اور پیاز دے کر اُسے واپس بھیج دیا۔اس سے اُس نے سمجھا کہ دوزخ میں یہی ہوتا ہے۔تو ہر رنگ کے انسان کا نقطہ نگاہ الگ ہوتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جیل کے متعلق چوروں نے بھی کتابیں لکھی ہیں، کانگرس والوں نے بھی لکھی ہیں، مگر ایک احمدی کا نقطہ نگاہ بالکل الگ ہوتا ہے۔اگر مولوی صاحب کتاب لکھ دیں تو دوسروں کو معلوم ہو سکے گا کہ ایک احمدی جیل خانہ میں جا کر کیا دیکھتا ہے۔کانگرسی جب جیل خانوں میں جاتے تو ان سے نہایت اعلیٰ سلوک کیا جاتا کچھ ان کے ڈر کی وجہ سے اور کچھ شرافت کی وجہ سے، لیکن جب وہ باہر نکلتے تو اتنی گالیاں دیتے اور اتنے الزامات لگاتے کہ افسر حیران رہ جاتے۔ان میں بھی ایسے لوگ ہیں جو شریف ملازمین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔۱۹۳۲ء میں جب میں ڈلہوزی گیا تو جالندھر کے ایک مشہور کانگرسی لیڈر کو میں نے دعوت پر بلایا۔اس پر انہوں نے کہلا بھیجا کہ میں دعوت میں تو آؤں گا لیکن پہلے مجھے اجازت دی جائے کہ میں خاص ملاقات کیلئے آؤں۔جب وہ آئے تو کہنے لگے کئی دنوں سے میرا ارادہ تھا کہ میں آپ سے ملوں۔میں نے