انوارالعلوم (جلد 14) — Page 450
انوار العلوم جلد ۱۴ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو جانا چاہئے لیکن اگر غیر محدود دریا ہے اور پھر کنارہ سمجھ کر اُترتا ہے تو جب بھی وہ اُتر ہے گا، ڈوبے گا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ نماز وغیرہ تو ذرائع ہیں خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کومل گیا تو پھر اس کے سواری پر بیٹھے رہنے کا کیا فائدہ؟ میں نے اُس کی اس بات کو سمجھ کر کہا کہ اگر دریا کا کنارہ ہی نہیں تو اِدھر اُترا، اُدھر ڈوبا۔خدا تعالیٰ کے متعلق یہی بات ٹھیک ہے لیکن بندوں کے معاملہ میں ہر چیز کا کنارہ ہے۔ایک پہلوان اگر ساری عمر ڈنڈ پیلتا رہے تو اس سے کیا فائدہ؟ لیکن اگر ایک سپاہی جو چار یا چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد ملک کی خدمت میں لگ جاتا ہے وہ بہت قابلِ تعریف ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو اس قسم کے کاموں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے اور اس طرح بہادری کا ثبوت دینا چاہئے ورنہ لوگ کہیں گے کہ احمدی بے غیرت اور بُزدل ہوتے ہیں۔اس وقت جو حالت ہے اس سے یہی خیال مخالفین میں پیدا ہوسکتا تھا اور ڈر ہے کہ خود ہماری جماعت میں بھی یہ خیال پیدا نہ ہو جائے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالے جائیں جو جائز ہوں اور بتائیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم بُز دل نہیں ہیں اور خدمت خلق کر کے اس امر کو ثابت کر دیں کہ مومن اپنے بھائیوں کے آرام کیلئے ہر طرح کی قربانی کر سکتا ہے۔(الفضل ۳۱۔جولائی ۱۹۳۷ء)