انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 439

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کیا کہ صرف یہی سنا ہے کہ فسٹ ائیر والوں کے ساتھ کچھ جھگڑا ہوا ہے،مفصل مجھے یاد نہیں۔اس پر انہوں نے ساری تفصیل سنائی جس میں انہوں نے کہا کہ میرے لڑکوں کو منیر احمد اور منور احمد صاحبزادگان نے مارا ہے۔اسی دوران میں فخر الدین صاحب ملتانی اپنی دکان سے شاید باہر آ کر شیخ صاحب کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی شرافت ہے کہ گورے پچھلے لڑکوں کے واسطے دوسروں کو لاٹھیاں ماری جاویں اور پھر ماری بھی بے قصور جائیں۔میں نے اُن کو عرض کیا کہ یہ بھی کوئی شرافت نہیں کہ صاحبزادگان پر آپ اس طرح الزام لگاتے ہیں۔میں اس کے بعد وہاں سے چلا گیا ، یہ وہیں رہے۔محمد فضل داد عفی عنہ بقلم خود آپ لوگ ان کے اندرونی بغض کا اور میرا جو ان کے متعلق رویہ تھا ، اس سے بھی اندازہ کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ واقعات سے ثابت ہے کہ یہ لوگ دیر سے خلافت سے الگ ہو چکے تھے۔اب ان کے خلیفہ مصری صاحب تھے۔اندر ہی اندر کھچڑیاں پک رہی تھیں اور ہر واقعہ کو مروڑ کر اپنے بغض کی رنگ آمیزی کے بعد میرے خلاف پروپیگنڈا کا ایک ذریعہ بنایا جا رہا تھا۔خلاصہ یہ کہ مولوی تاج الدین صاحب کی مومن ہونے کیلئے ضروری شرط رپورٹ پر یر تحقیق ہوئی اور اس کے جواب میں میاں فخر الدین صاحب نے جو بیان دیا اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تصرف سے انکے منہ سے وہ کچھ کہلوا دیا جو اُن کے اُس جرم کو ظاہر کرنے والا تھا جو سالہا سال سے وہ کرتے چلے آتے تھے۔انہوں نے اس بیان میں علاوہ اور الزامات کے گھلے الفاظ میں مجھ پر یہ الزام لگایا کہ میں نے چوری کے واقعہ میں فریق ثانی کی رعایت کی ہے حالانکہ میں نے ہر قدم پر ان کی مدد کی مگر انہوں نے متواتر مجھے ظالم اور چوروں کا ساتھی قرار دیا اور مخش کلامی اور ہر قسم کے اتہامات لگانے سے بھی باز نہیں رہے حالانکہ قرآن کریم کہتا ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ل یعنی اے محمد ! میں اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک تجھے جھگڑوں پر حکم مقرر نہ کریں اور پھر جب تو فیصلہ کرے تو اس کے متعلق اپنے دلوں میں تنگی