انوارالعلوم (جلد 14) — Page 438
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ مرز ا مبارک احمد کی موجودگی میں اس سے واقعہ پوچھا۔اس نے جو واقعہ بتا یا اسی طرح بعد میں سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ کی۔مگر چونکہ اس کا اقرار تھا کہ مبارک احمد پسر مصری صاحب نے اس دھوکا سے کہ میں اُس کے بھائی کو مارنے لگا ہوں جب مجھے مارا تو میں نے بھی غصہ سے اسے مارا اس لئے میں نے اُسے کہا کہ یہ جواب ایک شریف ہندو اور ایک شریف عیسائی بھی دے سکتا ہے۔تم مسلمان ہوا اور مسلمان بھی معمولی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور خلیفہ وقت کے بیٹے۔تم یہ بتاؤ کہ تم نے اس تعلق کے لحاظ سے کون سا اعلیٰ نمونہ دکھا یا۔کیا تم نے نہیں پڑھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں، بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو اور میں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ تم لوگ عفو سے کام لو۔تم نے حضرت مسیح موعود اور میری تعلیم پر کس طرح عمل کیا۔اور اگر تم نے عمل نہ کیا تو دوسرے لوگوں پر ہم کیا مجبت کر سکتے ہیں۔تم کو چاہئے تھا کہ مار کھاتے مگر ہاتھ نہ اُٹھاتے۔اگر مجھے یہ خبر آتی کہ تم نے مار کھائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے آگے سے جواب نہیں دیا ، تو مجھے نہایت خوشی ہوتی۔اس میری بات کوسن کر اُس کا سر ندامت سے جھک گیا اور آنکھوں سے آنسو آ گئے اور اس نے کہا کہ مجھے بعد میں محسوس ہو گیا تھا کہ میں نے غلطی کی ہے۔مجھے اس قسم کا نمونہ نہیں دکھانا چاہئے تھا۔(میاں منور احمد صاحب اُس وقت اتفاقا میرے پاس بیٹھے تھے حضور کی تقریر کے اس حصہ پر اُن کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔گویا وہ اس پر بہت نادم تھے۔رپورٹر ) یہ تو میرا طریق عمل ہے لیکن اس کے برخلاف ان لوگوں کا طریق عمل دیکھیں۔اس واقعہ کی اطلاع ان لوگوں کو بھی ملی اور اس پر میاں فخر الدین صاحب نے جواظہارِ خیال کیا اس کے متعلق ماسٹر فضل داد صاحب کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے:۔ماسٹر فضل داد صاحب کا حلفیہ بیان ماسٹر صاحب لکھتے ہیں:۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ تحریک جدید کے جلسوں کے دن میں چند منٹ کیلئے جلسہ سے باہر احمد یہ چوک کی طرف آیا، کرم الہی صاحب کی دُکان پر شیخ مصری صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔میں اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ کے بعد گزرنے لگا تو شیخ صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ کیا آپ نے کچھ سنا ہے کہ لاہور میں لڑکوں کی لڑائی ہوئی ہے۔میں نے عرض