انوارالعلوم (جلد 14) — Page 440
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ محسوس نہ کریں بلکہ دل سے بھی اس کے صحیح ہونے کو تسلیم کریں۔گویا قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ جب رسول یا اس کا خلیفہ فیصلہ کرے تو اسے ٹھیک مان لیا جائے۔ہوسکتا ہے کہ خلیفہ غلط فیصلہ کر دے مگر پھر بھی اسے رغبت دل کے ساتھ تسلیم کرنا ضروری ہے۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا چاہے اور اس لئے وہ سچا ہونے کے باوجود مقدمہ میں جھوٹا ثابت ہو جائے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ آیت صرف آنحضرت ﷺ کیلئے ہے کیونکہ وہ نبی تھے۔مگر اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ میں کوئی فرق نہیں کیونکہ نبی اور خلیفہ میں اس جگہ فرق ہوتا ہے جہاں نبوت کا مخصوص سوال ہوا اور مقدمات میں نبوت کے مقام کو کوئی دخل نہیں کیونکہ خود آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں مقدمات کے فیصلہ کرنے میں غلطی کر سکتا ہوں اگر نبی کے فیصلے منصب نبوت کے ماتحت ہوتے تو وہ ان میں کبھی غلطی نہ کر سکتا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ ایک مقدمہ کا فیصلہ ایک شخص کے حق میں کر دیا تو دوسرے نے کہا کہ میں اس فیصلے کو تو مانتا ہوں مگر یہ ہے غلط۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی لسان شخص مجھے دھوکا دیکر مجھ سے اپنے حق میں فیصلہ کر والے مگر میرا فیصلہ اسے خدا تعالٰی کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا۔کلا گویا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ قضاء کے بارہ میں میں بھی غلطی کر سکتا ہوں۔مگر باوجود اس کے قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ شرح صدر سے تیرے فیصلے کو نہیں مانیں گے تو یہ ایمان والے نہیں ہیں۔پس اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ کی پوزیشن ایک ہی ہے۔نظام کے قیام کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ ایک انسان کو ایسا حکم مان لیا جائے کہ جس کے فیصلہ کے آگے کوئی چون و چرا نہ کرے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا خلیفہ بے گناہ ہوتا ہے؟ کیا وہ غلط فیصلہ نہیں کر سکتا ؟ مگر میں کہتا ہوں کہ اے بیوقوفو! کیا مجسٹریٹ بے گناہ ہوتے ہیں؟ کیا وہ غلطی نہیں کر سکتے ؟ پھر یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ وہ رشوت بھی لیتے ہیں ، جھوٹے بھی ہوتے ہیں، متعصب بھی ہوتے ہیں، پکڑے جاتے اور سزا بھی پاتے ہیں۔کیا تم نہیں جانتے کہ حکومتوں نے ان کے فیصلہ پر سخت جرح کرنے کو ہتک عدالت قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے۔تم اگر کسی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے خلاف اس قسم کی بات کہو کہ اُس نے رعایت سے کام لیا ہے تو فوراً جیل خانہ میں بھیج دیئے جاؤ۔مگر کیا خدائی گورنمنٹ کی تمہارے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں کہ جو کچھ منہ میں آئے کہہ دیتے ہو۔کیا تم میں سے کوئی على الإغلان کہہ سکتا ہے کہ مجسٹریٹ نے دیانت داری کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔مگر یہ کہنے