انوارالعلوم (جلد 14) — Page 329
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) اُس کی خدمت کریں حالانکہ خدا تعالیٰ خدمت سے بالا ہستی ہے لیکن بہر حال یہ ایک وارفتگی کی کیفیت ہے اور اس سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ کہنے والا خدا تعالیٰ کے تجسم کا قائل ہے۔لیکن بعض پڑھے لکھے ایسے بھی ہوتے ہیں جو الفاظ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ظاہری ہاتھ اور اُس کی آنکھ سے ظاہری آنکھ مراد لے لیتے ہیں۔- اس کے مقابلہ میں بعض ایسے لوگ بھی فلسفی مزاج لوگوں کا حدود سے تجاوز ہوتے ہیں جن کے اندر محبت کا جوش نہیں ہوتا بلکہ فلسفہ اُن کے اندر جوش مار رہا ہوتا ہے۔وہ جب سنتے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے خدا کی آنکھیں ہیں اور دوسرا کہتا ہے اس سے آنکھیں مراد نہیں بلکہ فلاں چیز مراد ہے یا خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ظاہری ہاتھ مراد نہیں بلکہ طاقت وقوت مراد ہے تو وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ سارا قرآن ہی استعارہ ہے۔ایسے لوگوں کو جب کہا جاتا ہے کہ قرآن کہتا ہے نماز پڑھو تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نماز پڑھی جائے بلکہ یہ ہے کہ خدا سے محبت پیدا کی جائے۔اسی طرح جب قرآن کہتا ہے روزے رکھو تو وہ کہتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھو کے رہو بلکہ یہ مطلب ہے کہ حرام خوری نہ کرو۔اسی طرح جب حج کا ذکر آتا ہے تو وہ کہتے ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ خواہ مخواہ ملتے جاؤ بلکہ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ جہاں بھی قومی ضروریات اجتماع چاہتی ہوں وہاں انسان چلا جائے۔خواہ علیگڑھ چلا جائے یا کسی اور جگہ۔حتی کہ بعض نے تو اس حد تک استعارات کو بڑھایا ہے کہ میں نے ایک تفسیر دیکھی جس میں تمام قرآن کو استعارہ اور مجاز ہی قرار دیا گیا ہے۔اگر کسی جگہ موسیٰ کا نام آیا ہے تو اس کے کچھ اور ہی معنی لئے ہیں اور اگر آدم کا لفظ آیا ہے تو اس کے بھی کچھ اور معنی لئے گئے ہیں۔ایسا آدمی بالکل سو فسطائی بن جاتا ہے اور اس کی مثال اُس شخص کی سی ہو جاتی ہے جو بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت! ہر چیز وہم ہی وہم ہے۔بادشاہ نے اُسے نیچے صحن میں کھڑا کر کے مست ہاتھی چھوڑ دیا اور احتیاطاً ایک سیڑھی بھی لگا دی تا کہ وہ اس کے حملہ سے بیچ کر سیڑھی پر چڑھ جائے۔جس وقت ہاتھی نے حملہ کیا تو وہ بھاگا اور دوڑ کر سیڑھی پر چڑھنے لگا۔بادشاہ کہنے لگا کہاں جاتے ہو؟ ہاتھی واتھی کوئی نہیں یہ تو وہم ہی وہم ہے۔وہ بھی کچھ کم چالاک نہ تھا کہنے لگا بادشاہ سلامت ! کون بھاگ رہا ہے یہ بھی تو وہم ہی ہے۔تو بعض لوگ استعارہ کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ کوئی کلام بغیر استعارہ پر محمول کئے نہیں چھوڑتے۔ایسے لوگوں کے نزدیک خدا ایک طاقت کا