انوارالعلوم (جلد 14) — Page 328
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) میں خدا کے ہاتھ کا ذکر آئے تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بس اسی طرح چمڑے کا ہے جس طرح ہمارا ہاتھ ہے۔اُس کی بھی انگلیاں ہیں اور انگوٹھا ہے۔اور اگر انہیں کہا جائے کہ ہاتھ سے مراد خدا کی طاقت ہے تو وہ کہیں گے تم تاویلیں کرتے ہو جب خدا نے ہاتھ کا لفظ استعمال کیا ہے تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم اس کی کوئی اور تاویل کرو۔اسی طرح خدا کی آنکھ کا ذکر آئے تو وہ کہیں گے اس کے بھی ڈیلے ہیں۔اور اگر اس کے کوئی اور معنی کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ تو تاویلیں ہوئیں۔ایسے معنی کرنا خدا کی ہتک ہے۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کے متعلق اسْتَوى عَلَى الْعَرْشِ کے الفاظ آجائیں تو وہ کہیں گے کہ جب تک خدا تعالیٰ کو ایک سنگ مرمر کے تخت پر بیٹھا ہو ا تسلیم نہ کیا جائے قرآن سچا نہیں ہوسکتا۔یا اگر حدیثوں میں بعض ایسے ہی الفاظ آ جائیں کہ خدا اپنا پاؤں دوزخ میں ڈالے گا۔یا قرآن میں انہیں یہ دکھائی دے کہ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ لے تو جب تک وہ یہ تسلیم نہ کریں کہ خدا نے بھی پاجامہ پہنا ہوا ہوگا اور وہ اپنی پنڈلی سے نَعُوذُ بِاللهِ اپنا پاجامہ اُٹھائے گا اُس وقت تک ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔پس وہ تشبیہہ اور استعارہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھوکر کھا گئے اور خدا تعالیٰ کے تجسم کے قائل ہو گئے اور کسی نے ان الفاظ کی حکمت پر غور نہ کیا۔وارفتگی کا استثنا بے شک بعض دفعہ جذبات کی رو میں بھی انسان ایسے الفاظ منہ سے نکال دیتا ہے جن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی مجسم ہے مگر وہ ایک عارضی حالت ہوتی ہے جو وارفتگی کے وقت انسان پر وارد ہوتی ہے جیسے مثنوی رومی والے لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ جنگل سے گزر رہے تھے کہ اُنہوں نے ایک گڈریے کو دیکھا جو مزے لے لے کر کہہ رہا تھا کہ خدایا ! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تجھے بکری کا تازہ تازہ دودھ پلاؤں ، تیری جوئیں نکالوں، تجھے مل مل کر نہلا ؤں ، تیرے پاؤں میں کانٹے کچھ جائیں تو میں نکالوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ باتیں سنیں تو انہوں نے اُسے سونٹا مارا اور کہا۔نالائق ! تو خدا تعالیٰ کی گستاخی کرتا ہے۔اُسی وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الہام ہوا کہ اے موسیٰ ! اس بندے کو تو میری کسی کتاب یا الہام کا پتہ نہ تھا اسے کیا خبر تھی کہ میری کیا شان ہے یہ تو جذبہ محبت میں سرشار ہو کر مجھ سے باتیں کر رہا تھا تیرا کیا بگڑتا تھا اگر یہ اسی طرح مجھ سے باتیں کرتا رہتا۔تو دنیا میں ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کا عام انسانوں پر قیاس کر لیتے ہیں اور جب اُنہیں محبت کا جوش اُٹھتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اگر خدا مل جائے تو ہم