انوارالعلوم (جلد 14) — Page 330
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) نام ہے۔فرشتے اخلاق کا نام ہیں۔جنت اور دوزخ قومی ترقی اور تنزل کے نام ہیں اور اُن کے نزدیک یہ سب عبادتیں نَعُوذُ بِاللہ لوگوں کو بہلانے کیلئے رکھی گئی ہیں۔بعض قوموں میں ایک ہی وقت میں یہ دونوں باتیں عیسائیوں کی مذہبی کیفیت پائی جاتی ہیں یعنی بعض باتوں کے متعلق تو وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ استعارے ہیں اور بعض باتوں کے متعلق کہتی ہیں کہ یہ استعارے نہیں۔اور بعض ایسی قومیں ہیں جن کا اگر استعارہ میں فائدہ ہو تو استعارہ مراد لے لیتی ہیں اور حقیقت میں فائدہ ہو تو حقیقت مراد لے لیتی ہیں۔عیسائی اسی قسم کے شتر مرغ ہیں۔انہیں جس چیز میں فائدہ نظر آتا ہے وہ اختیار کر لیتے ہیں۔حضرت مسیح نے اپنے متعلق کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔یہ ایک استعارہ تھا مگر عیسائیوں نے اسے حقیقت قرار دے کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسی سچ مچ خدا کے بیٹے تھے مگر جب مسیح نے روزے رکھنے اور عبادت کرنے کا حکم دیا تو کہہ دیا کہ یہ استعارہ ہے۔گویا جس میں اپنا فائدہ دیکھا وہی روش خود اختیار کر لی۔جیسے کہتے ہیں کوئی پور بن تھی جس کا خاوند مر گیا۔پوربن نے رونا پیٹنا شروع کر دیا اور اپنی بے کسی ظاہر کرنے کیلئے کہنے لگی۔میرے خاوند نے فلاں سے اتنے روپے وصول کرنے تھے وہ اب کون وصول کرے گا ؟ ایک پور بیہ جو پاس ہی بیٹھا ہوا تھا کہنے لگا۔اری ہم ری ہم وہ کہنے لگی فلاں جگہ اتنی زمین اور جائداد ہے اب اُس پر کون قبضہ کرے گا ؟ تو وہ پھر بولا۔’اری ہم ری ہم پھر وہ کہنے لگی اُس نے فلاں کاسو روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا ؟ تو وہ کہنے لگا۔ارے بھئی ! میں ہی بولتا جاؤں یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔تو عیسائیوں نے اپنا مذہب ایسا ہی بنایا ہوا ہے۔جہاں حضرت عیسی علیہ السلام یہ کہتے ہیں کہ میں خدا کا بیٹا ہوں وہاں کہتے ہیں بالکل ٹھیک۔مگر جب وہ کہتے ہیں کہ بھوتوں کے نکالنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ روزے رکھے جائیں تو وہ کہہ دیتے ہیں یہ استعارہ ہے۔66 استعارات کی ضرورت اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب استعارات میں اس قدر خطرے ہیں تو الہامی کتابوں نے اسے استعمال کیوں کیا ؟ کیونکہ خرابیاں یا تو استعارہ کو محدود کر دینے سے پیدا ہوتی ہیں یا اسے وسیع کر دینے سے۔اگر استعارہ رکھا ہی نہ جاتا تو اس میں کیا حرج تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ استعارہ کی کئی ضرورتیں ہیں۔