انوارالعلوم (جلد 14) — Page 269
ایک رئیس سے مکالمہ انوارالعلوم جلد ۱۴ ساتھ ہو جاتے ہیں، بعض لوگ اپنے دُنیوی فوائد کے پیچھے چلتے ہیں، بعض اتحاد اور بادشاہت کے رعب کے زیر اثر ہو کر مان لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ مذہب کو دنیوی ترقی بھی دیتا ہے ورنہ دنیا مذ ہب کی اصل غرض نہیں ہوتی۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا ہمیشہ دین کے پیچھے آتی ہے اور ہمارا تو ایمان ہے کہ دنیا کی تمام بادشاہتیں ہمیں ملیں گی لیکن ہما را اصل مقصود دین ہے۔غیر احمدی رئیس مجھے تو کسی تبلیغ کی ضرورت ہی نہیں۔میں تو کہا کرتا ہوں کہ مجھے تبلیغ کیوں کرتے ہو۔اگر آپ حق پر ہیں تو دعا کریں۔آپکی دعا اگر قبول ہوگئی تو مجھے خود بخود بھی لے گی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اس میں تین غلطیاں ہیں۔اول یہ خیال کرنا کہ ہدایت خود بخود مل جاتی ہے۔دوم یہ کہنا کہ تبلیغ کی ضرورت نہیں۔سوم یہ کہنا کہ صرف دعا کرنا ہی کافی ہے۔ان کی تردید قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے اور عقل سے بھی کیونکہ اگر یہ مانا جائے کہ جس مذہب کی ہدایت خود بخود ہو جائے وہ سچا ہے ورنہ نہیں تو اس طرح گویا یہ ماننا پڑے گا کہ نیکی اور بدی خود بخود پیدا ہوتی ہے اور اس صورت میں نہ تو کوئی مجرم رہا اور نہ قابل تعریف رہا۔مثلاً سنگ مرمر اور کیکر کی لکڑی کی قیمت میں تو فرق ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سنگِ مرمر نیک ہے اور کیکر کی لکڑی گنہگار ہے۔پس ان کی قیمت میں تو فرق ہے لیکن درجے میں کوئی فرق نہیں۔اسی اصول پر اگر نیکی اور بدی کو بھی خود بخود حاصل ہونے والی مانا جائے تو نہ کسی نیک کی تعریف باقی رہتی ہے نہ کسی بد کی ذلت ہو سکتی ہے۔اسی طرح حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور آنحضرت ے کے درجات میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔جبری نیکی سے کسی شخص کی کوئی قدرنہیں رہتی۔اس طرح تو گویا نیک لوگ خدا کی دی ہوئی ہدایت سے سُدھر گئے اور بد،خدا کے بگاڑنے پر بگڑ گئے لیکن ہم قرآن مجید میں زمین و آسمان کی چیزوں یا ملائکہ کی تعریف نہیں دیکھتے۔ہاں خدا تعالیٰ کی اپنی تعریف یا انسانوں کی تعریف نظر آتی ہے کیونکہ انسان اپنی عقل و حکمت کے ماتحت نیکی کرتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے۔لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدَنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ اگر خدا ہم سے شرک نہ کرا تا تو ہم شرک نہ کرتے۔وہ ہمیں جبر کر کے ہدایت پر لے آتا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی ہے اور فرمایا کہ یأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلَغَ مَا أُنْزِلَ