انوارالعلوم (جلد 14) — Page 270
انوار العلوم جلد ۱۴ ایک رئیس سے مکالمہ اِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتہ سے اے رسول ! اگر تبلیغ کرتے ہوئے تم نے کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی چھوڑ دیا تو گویا تم نے ساری رسالت ہی نہیں پہنچائی اور ہمارا یہ فیصلہ ہو گا کہ تم نے تبلیغ کا کوئی کام نہیں کیا۔پس اول تو قرآن کریم خود تبلیغ کا حکم دیتا ہے آپ اگر جبر کو جائز سمجھتے ہیں تو یہی سمجھ لیں کہ جو تبلیغ کر رہا ہے وہ بھی خدا کے حکم سے ہی تبلیغ کر رہا ہے کیونکہ اُس کو خدا خاموش نہیں کرا تا آپ بھی سنتے رہیں آپ اس کی تبلیغ پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ جب چاہے گا اسے خود بخود چُپ کرا دے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہدایت اور ضلالت میں نے خود واضح کر دی ہے۔اور پھر تبلیغ کا حکم فرمایا کہ فَذَكَّرُ إِنْ نَفَعَتِ الذِكرى " یہاں إِنْ ، بمعنی ”قد “ ہے کہ نصیحت کر نصیحت نے ہمیشہ دنیا کو فائدہ دیا ہے۔دعا بھی وہی تبلیغ کی قائمقام ہو سکتی ہے جس میں کامل انابت الی اللہ ہو۔دعا در حقیقت کامل انابت الی اللہ کا ہی نام ہے۔قرآن مجید میں آتا ہے کہ کھڑے بیٹھے لیٹے مومن ہر وقت ذکر الہی کرتا ہے حالانکہ لیٹے ہوئے تو وہ سو بھی جاتا ہے۔پس اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ محبت کی چنگاری جو وہ لیکر سوتا ہے جب اُٹھتا ہے تو وہ شعلہ محبت کا پھر بھڑک اُٹھتا ہے اور خدا کی طرف بندے کو مائل کر دیتا ہے۔نیز دعا انسان کے اخلاص کے اظہار کا بھی ایک ذریعہ ہے تا کہ انسان کی نگاہ دوسری طرف سے ہٹ کر خدا تعالیٰ کی طرف لگی رہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی نظر دنیا پر نہ تھی گو زاد المعاد میں آپ کے گھوڑوں، کپڑوں اور اسباب وغیرہ کا ذکر بھی آتا ہے مگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اور اس کے حکم کے ماتحت تھا۔ایسا ہی قرآن کریم میں حضرت سلیمان کے گھوڑوں اور ان کے محل کا ذکر ہے کہ کئی ہزار گھوڑے تھے لیکن حضرت سلیمان کی نظر ان پر نہ تھی۔لیکن جبکہ قرآن کریم میں حضرت سلیمان کو بغیر حساب رزق ملنے کا ذکر ہے اگر وہ ایک لنگوٹی باندھے رکھتے تو یہ وعدہ الہی پورا ہوتا دنیا کس طرح دیکھتی پس الہی وعدہ کا ایفاء دکھانے کیلئے حضرت سلیمان نے گھوڑے وغیرہ رکھے تھے ورنہ جب قربانی کا سوال آئے تو یہ لوگ ان چیزوں کی کوئی پروا نہیں کرتے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ اور جب آپ فتح مکہ کے وقت مکہ تشریف لے گئے تو صحابہ نے دریافت فرمایا کہ حضور کہاں قیام فرمائیں گے؟ اس پر حضور کی آنکھوں میں بوجہ مکہ کی محبت کے آنسو آ گئے اور فرمایا کہ مکہ والوں نے تو میرے رہنے