انوارالعلوم (جلد 14) — Page 268
انوار العلوم جلد ۱۴ ایک رئیس سے مکالمہ سکتا ہے چنانچہ ایک شخص پیرا نامی کسی سخت مرض میں مبتلا ہو کر قادیان آیا۔وہ ایک غریب آدمی تھا اُس کے وارث اُسے یہاں چھوڑ کر چلے گئے۔چھ ماہ تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محنت سے اس کا علاج کیا۔جب وہ تندرست ہو گیا تو اُس کے وارث اُس کو لینے کیلئے آئے لیکن اُس نے جانے سے انکار کر دیا اور قادیان میں ہی رہا اور وہیں فوت ہوا۔وہ بڑی موٹی سمجھ کا آدمی تھا چنانچہ مجھے بچپن کے زمانہ کا اس کا واقعہ یاد ہے کہ وہ چند پیسے لے کر مٹی کا تیل پی جاتا تھا۔قادیان میں شروع زمانہ احمدیت میں جبکہ ریل اور تار وغیرہ نہ تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُسے تار دینے کیلئے وقتاً فوقتاً بٹالہ بھیجتے تھے۔وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اسٹیشن پر دیکھا کرتا تھا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لوگوں کو قادیان جانے سے روکنے کیلئے ہمیشہ بٹالہ اسٹیشن پر آیا کرتے تھے اسی سلسلہ میں مولوی صاحب نے مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری پروفیسر کو بھی بٹالہ سے واپس کر دیا تھا۔یہ پروفیسر صاحب اب میرے خسر ہیں اور اکثر افسوس کیا کرتے ہیں کہ اگر میں واپس نہ جاتا تو صحابہ کا درجہ حاصل کر لیتا لیکن افسوس کہ میں واپس چلا گیا۔غرض اسی طریق پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک دن میاں پیرا سے کہا کہ تُو قادیان مرزے کے پاس کیوں پڑا ہے، تو نے اس کا کیا دیکھا ہے؟ اس پر پیرے نے کہا۔مولوی صاحب ! میں پڑھا ہو ا تو ہوں نہیں پر ایک بات آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آپ کو تو میں ہمیشہ اسٹیشن پر دیکھتا ہوں، آپ لوگوں کو قادیان جانے سے منع کرتے ہیں مگر باوجود اس کے لوگ قادیان جاتے ہیں۔آپ کی جوتیاں بھی اسی کوشش میں گھس گئیں پر لوگ قادیان جانے سے نہیں رکھتے لیکن مرزا صاحب تو ہمیشہ گھر میں ہی رہتے اور ملاقات کیلئے بھی بسا اوقات لوگوں کو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔پھر لوگ قادیان کو تو بھاگے چلتے جاتے ہیں لیکن آپ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔آخر کوئی بات تو ہو گی اس سے آپ سمجھ لیں کہ مرزا صاحب کے پاس کیا ہے۔غرض مذہب کی صداقت کے عوام کی ہدایت کیلئے بھی خدا تعالیٰ نے سامان رکھے ہوئے ہیں جن سے ان پڑھ بھی فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ورنہ وہ پیرا اس قدر موٹی عقل کا تھا کہ اس کو نماز تک یاد نہ ہوتی تھی۔اُسے دو دو روپے تک انعام دینے کے وعدے کئے جاتے تھے کہ پانچ نمازیں پڑھ لے اور یہ انعام لے۔کئی کئی دن اس کو سُبحَانَ اللهِ یاد کرانے پر لگ گئے مگر ایسے شخص کی ہدایت کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے دلیل رکھی ہوئی تھی۔پھر کئی آدمی سیاسی طاقت دیکھ کر