انوارالعلوم (جلد 14) — Page 267
انوار العلوم جلد ۱۴ ایک رئیس سے مکالمہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ایک رئیس سے مکالمہ ( فرموده یکم نومبر ۱۹۳۶ء) جماعت احمدیہ کوئی مذہبی جماعت نہیں اور دُنیوی طور پر اس نے جس قدر غیر احمدی رئیس ترقی کرنی تھی کر چکی ہے اس سے زیادہ ترقی نہیں کرسکتی۔حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ہر ایک تحریک کی ترقی کے خدا ابدا اسباب ہوتے ہیں اوران جُداجدا کو دیکھنا پڑتا ہے لہذا احمدیت کی ترقی کے اصل اسباب کو بھی دیکھنا ہو گا۔مذہبی ترقی کے واسطے ایسے دلائل بھی ہونے چاہئیں جن کو ایک ان پڑھ بھی سمجھ سکے۔چنانچہ جب ایک بدوی سے پوچھا گیا کہ ہستی باری تعالیٰ کا کیا ثبوت ہے تو اس نے کہا کہ جب اونٹ کا لیڈ نا اونٹ کا ثبوت ہے اور ایک مینگنی بکری کے وجود کو ثابت کرتی ہے تو یہ زمین و آسمان خدا تعالیٰ کے وجود پر کیوں دلیل نہیں ! پس سوچنے والی بات یہ ہے کہ احمدیت کی اس وقت تک کی ترقی کے اصل اسباب کیا تھے اور کن حالات میں اس نے ترقی کی۔بعض ترقیات تو آپس میں لازم و ملزوم ہوتی ہیں مثلاً کسی کا بادشاہت کی وجہ سے ترقی کرنا یا جیسے اگر کوئی شخص کسی جگہ جائے تو اُس کا گر تہ اور شلوار بھی اُس کے ساتھ جائے گا مگر گرتہ اور شلوار اصل مقصود نہیں ہوا کرتے اسی طرح احمدیت کی اصل ترقی تو روحانیت یا معارف و حقائق کی ترقی ہے لیکن کمزور لوگوں کیلئے خدا تعالیٰ نے اس کو دنیوی ترقی بھی دی ہے اور دے گا لیکن دُنیوی ترقی اِس کا اصل مقصود نہیں۔آنحضرت ﷺ کی ترقی کا اصل مقصود بھی بادشاہت نہ تھی۔گو خدا تعالیٰ نے عوام کی ہدایت کے لئے حضور اور حضور کے غلاموں کو بادشاہ بنا دیا۔اور حضور کی دُنیوی حکومت و ترقی بھی لوگوں کی ہدایت کا ایک ذریعہ بن گئی۔احمدیت نے صداقت کو ایسے آسان رنگ میں پیش کیا ہے کہ معمولی سمجھ کا انسان بھی سمجھ