انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 96

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت اور غیر مسلموں کو بھی احمدیوں سے ملنے جلنے کا موقع ملتا ہے وہ بھی اس امر کو جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہ لیڈر کہلانے والے اوّل درجہ کے جھوٹے ، دغا باز ، مگار، اور فریبی ہیں۔اور جب وہ یہ اعتراض کرتے ہیں تو حقیقت کا نہیں بلکہ اپنے خبث باطن کا ثبوت دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگا کر رسول کریم ﷺ کی خود توہین کرتے اور آپ کو گالیاں دیتے ہیں کیونکہ جب کوئی شخص گالیاں نہ دے رہا ہو اور دوسرا کہے کہ یہ گالیاں دیتا ہے تو دراصل وہ اپنے منہ سے آپ گالیاں دیتا ہے۔تو جہاں جہاں کے غیر احمدیوں یا غیر مسلموں کو جماعت احمدیہ کے افراد سے ملنے جلنے کا موقع ملتا رہتا ہے وہاں کے غیر احمدی اور غیر مسلم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس جھوٹ کو شائع کرنے والے لوگ اول درجہ کے خبیث ہیں مگر جو احمد یوں سے نہیں ملتے یا بغض میں انتہا تک پہنچ چکے ہیں وہ اس فریب میں آ سکتے ہیں کہ جماعت احمد یہ رسول کریم کی نَعُوذُ بِاللهِ ہتک کرتی ہے کیونکہ یہ باتیں کہنے والے ان کے مولوی ہیں اور آدمی عام طور پر حسن ظنی سے کام لیتا ہے۔اور جب وہ دیکھتا ہے کہ ایک جُبہ پوش مولوی اُسے آ کر کوئی بات کہہ رہا ہے تو وہ اس کی بات کو بلا سوچے سمجھے تسلیم کر لیتا ہے۔جب یہ اعتراض پھیلا اور فتنہ بڑھا تو میں نے فتنہ کو دور کرنے کیلئے دوطریق پیش کئے۔ایک یہ کہ چونکہ احمدی عام طور پر ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں سے ملتے رہتے ہیں اس لئے اگر یہ سمجھ بھی لیا جائے کہ مسلمانوں کے سامنے احمدی رسول کریم ﷺ کے متعلق جھوٹی محبت ظاہر کر دیتے اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کر دیتے ہیں ، تو عیسائیوں ، ہندوؤں اور سکھوں کے سامنے انہیں اس قسم کی باتیں کہنے کی صلى الله کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔انہیں تو احمدی کہتے ہونگے کہ ہم رسول کریم ﷺ سے محبت نہیں رکھتے اور نہ مکہ اور مدینہ کی اپنے دلوں میں کوئی عظمت سمجھتے ہیں۔یا کم از کم غیروں کی خوشنودی کیلئے وہ غیر مسلموں کی ہاں میں ہاں ملاتے اور ان کی مجلس میں انہی جیسی باتیں کرتے ہونگے۔پس میں نے کہا۔ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں میں سے وہ لوگ جو ہمارے ساتھ ملنے جلنے والے ہوں۔سو دو سو چار سو پانچ سو یا ہزار لے لئے جائیں اور انہیں کہا جائے کہ وہ اپنے مذہب کی مقدس مذہبی کتاب ہاتھ میں لے کر مؤکد بعذاب قسم کھا کر بتائیں کہ احمدی رسول کریم کی عزت کرتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی احمدیوں کے دلوں میں عزت ہے یا ان مقامات کی اینٹ سے اینٹ بجنے پر وہ نَعُوذُ بِاللہِ خوش ہیں۔اگر وہ تمام