انوارالعلوم (جلد 14) — Page 97
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت کے تمام یا ان کا بیشتر حصہ یہ گواہی دے کہ اس نے احمدیوں کو رسول کریم ﷺ کی عزت کرنے والا اور آپ کے نام کو دنیا میں بلند کرنے والا پایا تو اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو اپنے فعل پر شر ما نا چاہئے۔اور یہ جو میں نے اکثر کی شرط لگائی ہے اس کی یہ وجہ ہے کہ ہر قوم میں سے بعض لوگ جھوٹ بولنے والے بھی ہوتے ہیں۔دوسرا معیار میں نے یہ پیش کیا کہ وہ ہم سے مباہلہ کر لیں اور مباہلہ کی دعوت میں نے اس لئے دی کہ میں جانتا ہوں ہر معترض ان میں سے یقینا یہ سمجھتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے متعلق یہ اعتراض کر کے وہ جھوٹ بول رہا ہے۔میں کبھی یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ سوائے پاگل اور مجنون کے کوئی اور شخص یہ کہہ سکے کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں کرتے۔پاگل ممکن ہے اس قسم کا اعتراض کر دے مگر جو پاگل نہ ہو وہ ایک منٹ کیلئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی توہین کرتے اور اس بات پر نَعُوذُ بِاللهِ خوش ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بج جائے۔مگر چونکہ احرار پاگل نہیں اس لئے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔پس میں نے کہا کہ وہ اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کر لیں۔اور اگر وہ مباہلہ پر تیار ہوں تو لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کر لیں۔پانچ سو یا ہزار کی تعداد وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔اور پانچ سو یا ہزار ہم میں سے میدانِ مباہلہ میں نکل کھڑے ہو نگے۔لیکن میں نے کہدیا اس کیلئے ضروری ہے کہ فریقین آپس میں شرائط کا تصفیہ کر لیں اور تصفیہ شرائط کے پندرہ دن بعد مباہلہ ہو جائے۔اس کے جواب میں احرار کی طرف سے پہلے تو یہ کیا جاتا رہا کہ ہر جمعہ کو یہاں اعلان کر دیتے کہ ہم مباہلہ کیلئے تیار ہیں لیکن آخر انہوں نے کہا کہ ہم مباہلہ کیلئے تو تیار ہیں مگر اس شرط پر کہ قادیان میں ہو۔چنانچہ ان کے اخبار ”مجاہد نے صاف طور پر لکھا کہ:۔ہم مرزا محمود کو کوئی موقع نہیں دینگے کہ وہ مباہلہ سے پہلو تہی کر سکے۔ہاں یہ ضرور ہوگا کہ مباہلہ قادیان میں ہو۔“ (اخبار مجاہد ۱/۲۴ اکتوبر ۱۹۳۵ء) میں نے جب دیکھا کہ وہ متواتر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مباہلہ قادیان میں ہو تو میں نے کہا اگر باقی شرائط کو تم منظور کر لو تو میں اس کو بھی منظور کرنے کیلئے تیار ہوں۔میں ان کی اس شرط سے ہی سمجھتا تھا کہ دراصل وہ قادیان میں کا نفرنس کرنا چاہتے ہیں۔اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ شہید گنج کے موقع پر سول ڈس ابیڈی انس (CIVIL DISOBEDIENCE) سے جو