انوارالعلوم (جلد 14) — Page 95
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہوں تو وہ یہیں سے منگوائیں اور کامل فرمانبرداری یہی ہے کہ اسی کارخانہ کی جرابیں پہنیں۔سوائے ایسی صورت کے جیسا کہ میں نے اپنے متعلق کہا ہے کہ ایک دوست میرے لئے تحفہ جراب لے آئے تو میں نے پہن لی۔وہ ایک نہایت ہی مخلص دوست ہیں اور ہمیشہ میرے لئے تحفہ لانے کے عادی ہیں اس لئے ان پر بھی افسوس ہے کہ انہیں کیوں یہ خیال نہ آیا کہ اگر انہوں نے تحفہ دینا تھا تو وہ یہاں سے جرا میں خرید کر تحفہ پیش کر دیتے تا ان کی خواہش بھی پوری ہو جاتی اور میری خواہش بھی کہ آئندہ ہم سٹار ہوزری کی تیار کردہ جرا میں استعمال کیا کریں۔وہ دوست حیدر آباد کے ہیں اور شاید فاصلہ کی زیادتی کی وجہ سے ہماری آواز ابھی تک حیدر آباد کی جماعت کے کانوں تک نہیں پہنچی۔اس کے بعد میں موجودہ سال کے ایک نہایت ہی اہم واقعہ کی طرف جو مباہلہ کا ہے احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔احرار کی طرف سے متواتر ہم پر یہ اعتراض کیا جارہا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی نَعُوذُ بِاللهِ تک کرتے ہیں۔آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ سے درجہ میں بلند سمجھتے ہیں اور یہ کہ نَعُوذُ بِاللہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بھی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ اگر ان مقدس مقامات کی اینٹ سے اینٹ بھی بج جائے تو ہمیں کوئی پروا نہیں۔یہ بات جیسی جھوٹی اور بے بنیاد ہے اس کو ہراحمدی کا دل ہی جانتا ہے۔اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو اس کو محسوس نہ کرتا ہو۔ہمیں گندی سے گندی گالیاں دی جاتی ہیں ، بُرے سے بُرے نام رکھے جاتے ہیں، دل آزار سے دل آزار کلمات ہمارے متعلق استعمال کئے جاتے ہیں مگر ہمیں کبھی بھی ان الفاظ سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی ہمیں اس بات کے سننے سے ہوتی ہے کہ ہم نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم کی ہتک کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بج جانے پر بھی خوش ہیں۔غالباً احرار نے یہ جانتے ہوئے ہی ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی بہتک کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں دوسری گالیاں انہیں اتنا دکھ نہیں دیتیں جتنی یہ بات دکھ دیتی ہے اس لئے وہ ہمارے متعلق یہ اعتراض کر کے ہمیں انتہائی تکلیف اور دکھ دینا چاہتے ہیں لیکن دراصل اپنے اس عمل سے دشمن اقرار کر رہا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے انتہا درجہ کی محبت رکھنے والے ہیں۔یوں تو یہ اعتراض ایسا ہے کہ ہر احمدی اس کی تردید کا کھلا ثبوت ہے لیکن جن غیر احمد یوں