انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 41

۴۱ انوار العلوم جلد ۱۳ غیر مسلموں میں تبلیغ کیلئے زریں ہدایات کے پاس چونکہ ان کی نسبت زیادہ صداقت ہے، وہ دنیا کی پیدائش سے تو نہیں مگر آدم کے گناہ سے شروع کریں گے۔ان لوگوں کی مثال بعینہ اس راجہ کی ہے جو بہت بخیل تھا۔اس کے پاس ایک برہمن آیا اور کہا کہ مجھے مدد کی سخت ضرورت ہے۔ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ سورگ میں جانے کے خاص ذرائع میں سے ایک یہ ہے کہ برہمن کی بیٹی کی شادی کر دی جائے۔برہمن نے راجہ سے کہا میری بیٹی جوان ہے اس کی شادی کیلئے مجھے امداد دو۔وہ بخیل ہونیکی وجہ سے کچھ دینا بھی نہ چاہتا تھا اور ساتھ ہی برہمن کو بھی صاف جواب دینا اسے پسند نہ تھا اس لئے کچھ سوچ کر کہا کہ پر ارسال میری جو گائے گم ہو گئی تھی ، وہ لے لو۔اس کا بیٹا اس سے بھی زیادہ بخیل تھا اس نے کہا کہ اس سے بھی پہلے سال جو گائے مرگئی تھی ، وہ کیوں نہ اسے دے دی جائے۔یہی حال ان مذاہب کا ہے۔مسلمان تو زیر زبر کا جھگڑا ہی پیش کرے گا لیکن عیسائی آدم کے گناہ سے ادھر نہیں ٹھہرے گا مگر آر یہ پوچھے گا کہ خدا کو مادہ کہاں سے ملا۔غرضیکہ یہ سب پیچد ار گفتگو میں اُلجھتے اور دوسروں کو بھی اُلجھانا چاہتے ہیں اور نادان اس میں پھنس جاتے ہیں۔مولوی عمرالدین شملوی جو اب مرتد ہو چکے ہیں ، میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا تھا کہ جن بحثوں میں آپ پڑے رہتے ہیں یہ آپ کو انجام کا رگمراہ کر دیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بات کیسی عمدہ ہے کہ ایک باپ کو اس سے کیا غرض کہ اس کے بیٹے کا جگر کہاں ہے، تلی کیسی ہے ، دل کہاں ہے وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کا بیٹا ہے یا نہیں اور پھر اس سے پیار کرنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ہمارے تعلق کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ ہمارا رب ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔وبس۔اس نے آدمی کو کہاں سے بنایا کیسے بنایا یہ فضول سوالات ہیں۔پس غیر مسلموں سے بحث کرتے وقت ان کی طرف سے تمہارے سامنے ضرور ایسے عقدہ ہائے لَا يَنْحَلْ پیش کئے جائیں گے۔یہ مت خیال کرو کہ زمیندار ان باتوں سے واقف نہیں ہوتے انہیں بھی مسلمانوں کی طرح چند اصطلاحات یاد ہوتی ہیں۔وہ تناسخ کی تفصیل بیان نہیں کر سکتے مگر وہ یہ ضرور کہہ دیں گے کہ اپنے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔آخر یہ جو دنیا میں فرق ہے یہ کیا ہے؟ یا وہ کہہ دے گا کہ اسلام جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کا حکم دیتا ہے۔تو اپنے رنگ میں اور اپنے اصول پر ان کے اعتراضات ضرور ہوتے ہیں۔جس طرح کوئی مسلمان خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاقتوں سے واقف ہو یا نہ ہو، دورانِ گفتگو میں عادتاً إِنْشَاءَ الله کہہ دے گا۔حالانکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ساری طاقتیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، اس کے منشاء کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔سارے سامان اس کے پیدا کردہ