انوارالعلوم (جلد 13) — Page 40
? انوار العلوم جلد ۱۳ غیر مسلموں میں تبلیغ کیلئے زریں ہدایات نہیں چل سکے تو اصطلاحات کے چکر میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں مسلمان کو جب دلیل نہ آئے گی تو جھٹ کہہ دے گا اچھا بتاؤ نماز کے واجبات کتنے ہیں۔حالانکہ ہر شخص روز نماز پڑھتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ کس طرح پڑھنی چاہئے۔اسے اس کی کیا ضرورت ہے کہ واجبات معلوم کرتا پھرے اور اگر وہ بتا بھی دے تو کیا ضروری ہے کہ وہ اسے صحیح بھی مان لیں۔انہوں نے تو اپنے ڈھکوسلوں کی ایک فرضی لسٹ بنا رکھی ہوتی ہے مگر دوسرا ان بیہودگیوں میں نہیں پڑتا۔اس نے گن کر نہیں رکھے ہوئے یا یاد بھی ہیں مگر بیان کرتے وقت کوئی رہ گیا تو جھٹ کہہ دیں گے کہ دیکھو اسے اتنا بھی معلوم نہیں۔یہ تو ظاہری علوم والوں کا حال ہے۔جو لوگ علماء کہلاتے ہیں ، وہ زیر ز بر کا جھگڑا چھیڑ دیں گے حالانکہ ہزار ہا لوگ قرآن کریم کو خوب سمجھتے ہیں مگر وہ زیر زبر کے صحیح استعمال کو نہیں جانتے۔بس اس پر وہ کہہ دیں گے کہ یہ جاہل ہے۔پھر صوفیاء ہیں وہ جب دلیل سے عاجز آ جائیں گے تو کہیں گے بتا ؤ لقاء کیا ہے؟ آپ مذہبی باتیں تو خوب کرتے ہیں کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ لاہوت اور ناسوت کیا ہیں اور پھر قہقہہ لگائیں گے کہ دیکھو یہ ابتدائی باتوں سے بھی واقف نہیں حالانکہ ان باتوں کا روحانیات سے کوئی تعلق نہیں۔یہ خود ساختہ باتیں ہیں۔جیسے ایک تماشہ گر ، ٹکٹ نے بعض باتیں یاد رکھی ہوتی ہیں اور ان کے ذریعہ دوسروں سے پیسے وصول کرتا ہے۔اس کے ہاتھ میں دیکھنے والے پیسہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خالی ہوتا ہے۔یا لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ خالی ہے، مگر پیسہ موجود ہوتا ہے۔حقیقت میں اس کی باتیں اور حرکات ہی پیسہ کو لانے اور لے جانے کا بہانہ ہوتی ہیں اور انہی سے وہ دوسروں کو دھوکا میں ڈال کر اپنا کام کرتا ہے۔بعینہ اسی طرح لاہوت ناسوت اور فرائض و واجبات وغیرہ اصطلاحات بھی دوسروں کو دھوکا میں ڈالنے کیلئے وضع کر لی گئی ہیں اور یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کے پاس دین موجود ہے۔جن کے پاس حقیقت تھی جب ان کے اندر کچھ بھی آگئی تو اس قسم کی حرکات جب ان سے صادر ہونے لگیں تو جن کے پاس دین ہے ہی نہیں وہ کیا کچھ نہ کرتے ہونگے اسی لئے ایسے مواقع پر ہندو کہہ دیتے ہیں کہ اچھا یہ بتایا جائے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیسے کیا۔مسلمان کے پاس چونکہ قرآن پاک موجود ہے اس لئے اسے دور جانے کی ضرورت نہیں پیش آتی مگر وہاں چونکہ یہ خانہ خالی ہی ہے اس لئے وہ یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیسے کیا کیونکہ جتنی کم صداقت کسی کے پاس ہوگی، وہ اتنا ہی دور سے شروع کرے گا۔وید چونکہ بہت پرانے ہیں اور ان میں بہت تغیرات ہو چکے ہیں اس لئے وہ پیدائش سے پہلے شروع کریں گے۔عیسائیوں اور یہودیوں