انوارالعلوم (جلد 13) — Page 42
۴۲ انوار العلوم جلد ۱۳ غیر مسلموں میں تبلیغ کیلئے زریں ہدایات ہیں اور اس کے تصرف کے نیچے ہیں میری کوششوں کے باوجود اللہ کا اختیار ہے کہ وہ چاہے تو یہ کام ہوا اور اگر نہ چاہے تو نہ ہو۔مگر جاہل مسلمان ان باتوں کو نہیں جانتا لیکن إِنشَاءَ اللَّهُ کہے گا ضرور۔تو جس طرح مسلمان کو بعض مذہبی اصطلاحات اور جملے یاد ہوتے ہیں اسی طرح ہندوؤں کو بھی یاد ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کے اعتراضات بھی ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ریل میں میرے ساتھ ایک سکھ آنریری مجسٹریٹ سفر کر رہے تھے وہ مجھے کہنے لگے کہ اگر آپ بُرا نہ منائیں تو میں ایک مذہبی سوال کرنا چاہتا ہوں۔میں نے انہیں کہا کہ مذہبی سوال میں بُرا منانے کی کیا ضرورت ہے۔پھر اس نے دو چار منٹ اپنے غیر متعصب ہونے کے متعلق تقریر کی اور کہا میں اسلام کا مطالعہ کرتارہتا ہوں مگر بعض باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔مثلاً آپ کے ہاں جو ختنہ کا حکم ہے ، مرد تو اس پر عمل کر سکتے ہیں عورت کیا کرے۔میں نے کہا یہ کیا مشکل بات ہے آپ کے ہاں داڑھی رکھنے کا حکم ہے جو مرد تو رکھ سکتے ہیں مگر عورت کیا کرے۔جو علاج آپ اس کے لئے تجویز کریں گے، وہ ہماری طرف سے سمجھ لیں۔کہنے لگے ان کے تو ہوتی ہی نہیں۔میں نے کہا اسی طرح ختنہ کا حال ہے۔تو ایسے ایسے اعتراض ان لوگوں نے بنائے ہوئے ہوتے ہیں جن سے اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں۔قرآن کریم نے اس بارہ میں بھی راہنمائی کی ہے۔اس نے ظاہری الفاظ میں پیچیدہ مسائل کو پیش کیا ہے۔اس کا فلسفہ اس کے لفظوں کے نیچے چھپا ہوا ہے جو اسے نکالنا چاہے گرید کر نکال لے گا وگرنہ ایک عامی لے کے لئے اس کے اندر سیدھی سادھی باتیں ہیں۔مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا کون ہے، تم کو ذلیل پانی سے پیدا کیا ہے، پھر تمہارے لئے سامان معیشت پیدا کئے ، تم مصیبتوں میں گھبراتے ہو، آفتوں پر روتے ہو، ہم نے زمین و آسمان کو تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے۔کیا موٹی موٹی باتیں ہیں جنہیں ایک زمیندار بھی سمجھ سکتا ہے۔پھر ان کے اور ورشنز (VERSIONS) ہوتے ہیں اور اُن کے اور لیکن ایک عامی کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ قرآن کریم میں فلسفہ کی باتیں ہیں ہاں ایک فلسفی اس کے اندر فلسفہ کا بحر بیکراں دیکھتا ہے۔تو چونکہ آپ کو ہندوؤں اور سکھوں سے گفتگو کی زیادہ عادت نہیں ، اس لئے ان سے گفتگو کرتے وقت ضروری ہے کہ قرآن کریم کے طرز کی اتباع کریں اس کے الفاظ سہل اور دلائل میں سادگی ہے۔قرآن کریم کے پیش کردہ دلائل پر غور کرو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ سب کے سب دو چیزوں پر مرکوز ہیں۔ایک تو یہ کہ تمام عالم میں ایک طاقتور ہستی ہے۔سورج ، چاند، خشکی ، تری ، نور، ظلمت کو دیکھو تمہیں