انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 3

انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف ہے کہ گو کام اس قدر نہیں ہوا جس قدر ہونا چاہئے تھا مگر پھر بھی عام جماعت کو مدنظر رکھتے ہوئے انصار اللہ کا کام بہت زیادہ ہے۔ہماری تمام جماعت لاکھوں افراد پر مشتمل ہے جن میں سے بتایا گیا ہے کہ اٹھارہ سو انصار اللہ ہیں۔اس لاکھوں کی جماعت کی کوشش سے سارے سال میں پانچ چھ ہزار آدمی جماعت میں داخل ہوتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں انصار اللہ کی کوشش سے اس سال چھ سو افراد جماعت میں شامل ہوئے جس کے معنی یہ ہیں کہ گو تعداد کے لحاظ سے انصار اللہ تمام جماعت کے مقابلہ میں سو میں سے ایک بھی نہیں لیکن تبلیغی لحاظ سے انہوں نے جماعت کے کام کے مقابلہ میں دس فیصدی کام کیا ہے اور پھر بتایا گیا ہے کہ اٹھارہ سو میں سے صرف تین سو انصار اللہ نے حقیقی کام کیا جو تمام انصار اللہ کا ۶/۱ ہوتے ہیں گویا ساری جماعت میں سے ۱۸سو آدمی جن کی فیصدی کچھ نسبت ہی نہیں بنتی ان کا انصار اللہ میں داخل ہونا اور ان میں سے صرف ۱۶ فیصدی کا کام کرنا جس کے نتیجہ میں چھ سو افراد کا جماعت میں شامل ہونا درحقیقت اس بات کی علامت ہے کہ اس تنظیم سے کام میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔پھر رپورٹ میں ایک یہ بات بھی نہایت خوشکن تھی کہ جماعت ضلع گجرات جو کسی زمانہ میں تمام جماعتوں کے مقابلہ میں دوسرے نمبر پر ہوا کرتی تھی، جہاں بیسیوں افراد السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ کے موجود ہیں اور جہاں کے لوگوں نے اُس وقت سلسلہ احمدیہ کو قبول کیا جب کہ بڑی بڑی سختیاں اور ظلم ہوا کرتے تھے اور انہوں نے ظلموں کو برداشت کرتے ہوئے ایمان کو ہاتھ سے نہ جانے دیا مگر بعد میں وہاں سستی پیدا ہوگئی اور جماعت گرتے گرتے اب شاید پانچویں یا چھٹے نمبر پر رہ گئی۔اس میں بھی اب بیداری پیدا ہو رہی ہے۔مجھے اپنے بچپن کے زمانہ میں ضلع گجرات کے لوگوں کا یہاں آنا یاد ہے۔اُس وقت سیالکوٹ اور گجرات سلسلہ کے مرکز سمجھے جاتے تھے گورداسپور بہت پیچھے تھا کیونکہ قاعدہ ہے کہ نبی کی اپنے وطن میں زیادہ قدر نہیں ہوتی ہے اس زمانہ میں سیالکوٹ اول نمبر پر تھا اور گجرات دوسرے نمبر پر۔مجھے گجرات کے بہت سے آدمیوں کی شکلیں اب تک یاد ہیں۔مجھے یاد ہے کہ بہت سے اس اخلاص کی وجہ سے کہ تا وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کو پورا کرنے والے بنیں کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيق۔سے نہ اس وجہ سے کہ انہیں مالی تنگی ہوتی پیدل چل کر قادیان آتے۔ان میں بڑے بڑے مخلص تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب رکھتے۔یہ بھی ضلع گجرات کے لوگوں کا ہی واقعہ ہے جو حا فظ روشن علی صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے اور میں بھی اِس کا ذکر کر